03/06/2026
احد کا میدان تھا ۔۔
عشاقِ نبوت ،،،
نبوت کے گرد اپنے جسموں کو ڈھال بنا کر گرداگرد کھڑے تھے ۔۔
وہ نبوت کی طرف ہر آنے والا تیر اپنے جسموں کو ڈھال بنا کر روکتے
اور خود تیروں کے وار ایسے مسکراتے ہوئے سہتے
گویا کہ ان کے مبارک جسموں پر تیر نہیں بلکہ پھول برسائے گئے ہوں ۔۔
اور حقیقت میں وہ تیر جنت کے پھول ہی تو تھے ۔۔
راہِ محبوب میں ہر تیر ، ہر پتھر ، پھول بن کر ہی تو لگتا ہے ..
صحابہ ؓ ..
حضورﷺ کی طرف اپنے چہروں کا رخ کئے ،
جسموں کو ڈھال بنا کر ،
دشمن کی طرف پیٹھ کئے انکے ہر وار سہتے جاتے ۔۔
اور نبوت کی حفاظت کرتے جاتے ...
انکی پشتیں لہو لہان تھیں مگر جب
وہ حضورﷺ کو دیکھتے کہ وہ الحمد للہ بعافیت ہیں
تو پھر سے مسکراتے اور واری صدقے جاتے ۔۔
ان ہی عشاق میں ایک خاموش عاشق "زیاد بن عمارہ" بھی تھے ۔۔
جو چپ چاپ اپنے جسم پر تیروں پر تیر برداشت کرتے رہے اور نبوت کے گرد پہرا دیتے رہے ،
یہاں تک کہ وہ زخموں سے چُور ہو کر یکدم گر پڑے ۔۔
حضور ﷺ کی نگاہِ کرم زیاد پہ اٹھی اور لسانِ اطہر سے حکم جاری ہوا کہ :
اسکو میرے پاس لاؤ ۔۔!!
جونہی وہ حضورﷺ کے قریب لائے گئے ۔۔ انکی تو قسمت ہی چمک اٹھی ۔۔
پل بھر کو انہوں نے حضور ﷺ کو دیکھا ..
نگاہیں چار ہوئیں ..
اور یوں لگا جیسے کائنات تھم گئی ہو ...
والضحیٰ والے مبارک مکھڑے پر سے نظریں ہٹانے کا دل کس کا کرتا ہے بھلا ؟
زیاد ؓ نے جی بھر کر محبوب ﷺ کو دیکھا ...
اور پھر گویا آنکھوں ہی آنکھوں میں جنت میں ملن کے وعدے کئے اور
موقع غنیمت جانتے ہوئے نبوت کے مبارک قدموں پر اپنا منہ اور رخسار رکھ دیئے ...
اور یہی وہ لمحہ تھا ...
جس کو لکھتے ہوئے میرے اشک رواں ہیں ..
یہی وہ سعادت تھی جس پر رشک سیدی عمر ؓ نے کیا ..
یہی وہ اعزاز تھا جس کی تمنا تمام صحابہ ؓ نے کی تھی ...
مگر یہ اعزاز "زیاد" کے حصے میں آیا تھا ..
وہ وِنر تھے ...
اور یہی وہ لمحہ تھا ..
یہی وہ ادا تھی ..
جس پر مالکِ دو جہاں کو خود بھی پیار آیا تھا
اور اس مالک نے زیاد ؓ کو اپنے پاس بلا لیا ۔۔!
میں سوچتی ہوں کہ انسان جس حال میں مرتا ہے ،
بروزِ حشر اسی حال میں اٹھایا جائے گا ...
کتنے ہی نصیبوں والے ہیں سیدنا زیاد بن عمارہ ..
جو حضورﷺ کے قدموں پر اپنا تن من وار گئے
اور قیامت میں بھی انہی قدموں کو بوسہ دیتے ہوئے اٹھیں گے ...!!!
بقول شاعر :
~ قدموں کو میں نے چوما ہے قدموں میں بیٹھ کر
عرشِ بریں کو دیکھا ہے قدموں میں بیٹھ کر
~ اوجِ فلک سے آتے ہیں پیغامِ تہنیّت
منظر عجیب دیکھا ہے قدموں میں بیٹھ کر