Modern Era watches

Modern Era watches all kind of watches
(1)

03/06/2026

احد کا میدان تھا ۔۔
عشاقِ نبوت ،،،
نبوت کے گرد اپنے جسموں کو ڈھال بنا کر گرداگرد کھڑے تھے ۔۔
وہ نبوت کی طرف ہر آنے والا تیر اپنے جسموں کو ڈھال بنا کر روکتے
اور خود تیروں کے وار ایسے مسکراتے ہوئے سہتے
گویا کہ ان کے مبارک جسموں پر تیر نہیں بلکہ پھول برسائے گئے ہوں ۔۔
اور حقیقت میں وہ تیر جنت کے پھول ہی تو تھے ۔۔
راہِ محبوب میں ہر تیر ، ہر پتھر ، پھول بن کر ہی تو لگتا ہے ..

صحابہ ؓ ..
حضورﷺ کی طرف اپنے چہروں کا رخ کئے ،
جسموں کو ڈھال بنا کر ،
دشمن کی طرف پیٹھ کئے انکے ہر وار سہتے جاتے ۔۔
اور نبوت کی حفاظت کرتے جاتے ...
انکی پشتیں لہو لہان تھیں مگر جب
وہ حضورﷺ کو دیکھتے کہ وہ الحمد للہ بعافیت ہیں
تو پھر سے مسکراتے اور واری صدقے جاتے ۔۔

ان ہی عشاق میں ایک خاموش عاشق "زیاد بن عمارہ" بھی تھے ۔۔
جو چپ چاپ اپنے جسم پر تیروں پر تیر برداشت کرتے رہے اور نبوت کے گرد پہرا دیتے رہے ،
یہاں تک کہ وہ زخموں سے چُور ہو کر یکدم گر پڑے ۔۔
حضور ﷺ کی نگاہِ کرم زیاد پہ اٹھی اور لسانِ اطہر سے حکم جاری ہوا کہ :
اسکو میرے پاس لاؤ ۔۔!!
جونہی وہ حضورﷺ کے قریب لائے گئے ۔۔ انکی تو قسمت ہی چمک اٹھی ۔۔
پل بھر کو انہوں نے حضور ﷺ کو دیکھا ..
نگاہیں چار ہوئیں ..
اور یوں لگا جیسے کائنات تھم گئی ہو ...
والضحیٰ والے مبارک مکھڑے پر سے نظریں ہٹانے کا دل کس کا کرتا ہے بھلا ؟
زیاد ؓ نے جی بھر کر محبوب ﷺ کو دیکھا ...
اور پھر گویا آنکھوں ہی آنکھوں میں جنت میں ملن کے وعدے کئے اور
موقع غنیمت جانتے ہوئے نبوت کے مبارک قدموں پر اپنا منہ اور رخسار رکھ دیئے ...
اور یہی وہ لمحہ تھا ...
جس کو لکھتے ہوئے میرے اشک رواں ہیں ..
یہی وہ سعادت تھی جس پر رشک سیدی عمر ؓ نے کیا ..
یہی وہ اعزاز تھا جس کی تمنا تمام صحابہ ؓ نے کی تھی ...
مگر یہ اعزاز "زیاد" کے حصے میں آیا تھا ..
وہ وِنر تھے ...
اور یہی وہ لمحہ تھا ..
یہی وہ ادا تھی ..
جس پر مالکِ دو جہاں کو خود بھی پیار آیا تھا
اور اس مالک نے زیاد ؓ کو اپنے پاس بلا لیا ۔۔!

میں سوچتی ہوں کہ انسان جس حال میں مرتا ہے ،
بروزِ حشر اسی حال میں اٹھایا جائے گا ...

کتنے ہی نصیبوں والے ہیں سیدنا زیاد بن عمارہ ..
جو حضورﷺ کے قدموں پر اپنا تن من وار گئے
اور قیامت میں بھی انہی قدموں کو بوسہ دیتے ہوئے اٹھیں گے ...!!!
بقول شاعر :
~ قدموں کو میں نے چوما ہے قدموں میں بیٹھ کر
عرشِ بریں کو دیکھا ہے قدموں میں بیٹھ کر

~ اوجِ فلک سے آتے ہیں پیغامِ تہنیّت
منظر عجیب دیکھا ہے قدموں میں بیٹھ کر

Python Basics – اب بالکل آسان اردو میں! 🚀💻 کیا آپ Programming سیکھنا چاہتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کریں؟اب س...
23/05/2026

Python Basics – اب بالکل آسان اردو میں! 🚀
💻 کیا آپ Programming سیکھنا چاہتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کریں؟
اب سیکھیں Python Language صفر سے، آسان انداز میں!
📚 کورس میں شامل:
✅ Python کی Basic Understanding
✅ Variables & Data Types
✅ Lists & Dictionaries
✅ Loops & Functions
✅ Sets & Libraries
✅ Practical Coding Examples
🎯 یہ کورس کیوں؟
✔ Beginner Friendly
✔ Logic Building & Problem Solving
✔ Real Projects کی تیاری
✔ Tech Field کے لیے Strong Foundation
⏰ کلاس دورانیہ: 1 گھنٹہ
📅 کلاسز: Monday / Wednesday / Friday
💰 عید آفر: صرف 500 روپے
اصل فیس 2000 روپے
📞 مزید معلومات اور داخلے کے لیے WhatsApp کریں:
03202904506
🔥 آج ہی اپنی Coding Journey شروع کریں!
Basics – اب بالکل آسان اردو میں! 🚀
💻 کیا آپ Programming سیکھنا چاہتے ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کریں؟
اب سیکھیں Python Language صفر سے، آسان انداز میں!
📚 کورس میں شامل:
✅ Python کی Basic Understanding
✅ Variables & Data Types
✅ Lists & Dictionaries
✅ Loops & Functions
✅ Sets & Libraries
✅ Practical Coding Examples
🎯 یہ کورس کیوں؟
✔ Beginner Friendly
✔ Logic Building & Problem Solving
✔ Real Projects کی تیاری
✔ Tech Field کے لیے Strong Foundation
⏰ کلاس دورانیہ: 1 گھنٹہ
📅 کلاسز: Monday / Wednesday / Friday
💰 عید آفر: صرف 500 روپے
اصل فیس 2000 روپے
📞 مزید معلومات اور داخلے کے لیے WhatsApp کریں:
03202904506
🔥 آج ہی اپنی Coding Journey شروع کریں!


15/05/2026


17/02/2026


17/02/2026

مسیح الدجال کے بارے میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک عجیب و غریب مخلوق ہے جس کی ایک آنکھ درمیان میں ہے اور اس کی شکل خوفناک ہے۔ حقیقت میں، وہ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عام انسان ہوگا، بالکل ہمارے جیسے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بہت واضح طور پر بیان کی ہے، جو کسی دوسرے نبی نے اس طرح نہیں کی۔ اس کی فتنہ اس قدر بڑی ہوگی کہ تمام انبیاء نے اپنی قوموں کو اس سے خبردار کیا ہے کیونکہ یہ زمین پر ہونے والا سب سے بڑا فتنہ ہوگا، اور ہم جانیں گے کہ کیوں۔
پہلی بات یہ کہ اسے "مسیح" کہا گیا ہے دو وجوہات کی بنا پر:
پہلی وجہ یہ کہ اس کی ایک آنکھ مَسح یعنی بند ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی آنکھ انگور جیسی ابھری ہوئی ہوگی، جیسے اس میں سے پانی نکال لیا گیا ہو۔
دوسری وجہ یہ کہ وہ چالیس دنوں میں پوری دنیا کا سفر کرے گا۔
پہلا دن ایک سال جتنا لمبا ہوگا، دوسرا دن ایک مہینے جتنا، تیسرا دن ایک ہفتے جتنا، اور باقی دن ہمارے معمول کے دنوں کی طرح ہوں گے۔ وہ زمین کے ہر حصے تک پہنچے گا۔ وہ ایک سواری پر ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گدھا کہا، لیکن اس کی شکل بہت عجیب ہوگی، اس کے کانوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا، یعنی وہ بہت بڑی ہوگی۔

وہ ایک نوجوان ہوگا، بوڑھا نہیں، اس کی جلد سرخی مائل سفید ہوگی، اس کے بال بہت زیادہ اور بہت سخت ہوں گے، وہ چھوٹا ہوگا لیکن اس کا جسم بہت چوڑا اور بھاری ہوگا، اور اس کی ٹانگوں کے درمیان ایک واضح فاصلہ ہوگا۔
سب سے اہم بات یہ کہ اس کی پیشانی پر "کافر" (ک ف ر) لکھا ہوگا، اور اللہ کی حکمت سے ہر مؤمن اسے پڑھ سکے گا، چاہے وہ پڑھنا جانتا ہو یا نہ ہو۔

اس کی فتنہ اس قدر شدید کیوں ہے؟ کیونکہ وہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے اور وہ ایسے کام کرے گا جو بظاہر صرف اللہ ہی کر سکتا ہے۔ لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی مرضی کے تابع ہوگا۔

وہ دو دریاؤں کے ساتھ چلے گا: ایک جو جنت کی مانند ہوگا، اور دوسرا جو جلتی ہوئی آگ جیسا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں حقیقت میں اُلٹے ہوں گے۔ اس کی جنت آگ ہوگی اور اس کی آگ جنت ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت دی کہ اگر ہم اس کی آزمائش میں پڑ جائیں اور وہ ہمیں انتخاب کرنے کو کہے تو ہمیں اپنی آنکھیں بند کرنی چاہئیں، سر جھکا لینا چاہیے، اور اس کی آگ میں سے پینا چاہیے، کیونکہ وہ حقیقت میں ٹھنڈا اور شیریں پانی ہوگا۔

وہ کسی آدمی سے کہے گا کہ اگر میں تمہارے والدین کو زندہ کر دوں تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گے؟ اگر اس کا ایمان کمزور ہوگا، تو وہ کہے گا ہاں۔ پھر وہ ایک جن کو بلائے گا جو اس کے والدین کی شکل میں آئے گا اور کہے گا کہ یہ صحیح کہہ رہا ہے، اور وہ شخص ایمان لے آئے گا۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کے والدین آپ کے سامنے آ کر آپ سے کہیں کہ یہ شخص سچ بول رہا ہے؟ یہ کتنی بڑی آزمائش ہوگی۔

وہ ان شہروں میں جائے گا جو اس پر ایمان لائیں گے، ان پر بارش نازل کرے گا اور زمین سے فصلیں اگائے گا، اور جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے ان پر بارش رک جائے گی اور ان کی زمین بنجر ہوجائے گی۔
دجال اس وقت آئے گا جب تین سال تک قحط سالی اور بارش کی کمی ہوگی، اس لیے یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوگی۔

ایک نوجوان، جو اس وقت کے سب سے بہتر اور نیک لوگوں میں سے ہوگا، دجال کے سامنے آئے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ یہ جھوٹا ہے، اس پر یقین مت کرو۔
دجال اس آدمی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرے گا اور پھر لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گے؟ پھر وہ اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔
وہ نوجوان کہے گا کہ اب تو میرا یقین اور پختہ ہوگیا ہے کہ تم دجال ہو۔ وہ لوگوں سے کہے گا کہ یہ سب صرف میرے ساتھ ہو سکتا تھا، اس پر یقین مت کرو۔
دجال اسے دوبارہ قتل کر دے گا، اور وہ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم شہید ہوگا۔

دجال دو شہروں، مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ ان کی حفاظت پر فرشتے ہوں گے۔ وہ مسجد اقصیٰ اور طور میں بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت ہے کہ ہم اپنی جان کو اس کے فتنہ سے بچانے کی کوشش کریں اور جب وہ ظاہر ہو تو ان جگہوں پر جا کر پناہ لیں۔
جو لوگ اس کے بارے میں جانتے ہوں گے، وہ اس سے لڑنے جائیں گے، لیکن اس کی طاقتور آزمائشوں کو دیکھ کر کچھ ایمان والے بھی اس کے فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت دی کہ اگر ہم دجال کا سامنا کریں تو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات پڑھیں، کیونکہ وہ ہمیں اس کے فتنہ سے بچائیں گی۔ اس لیے ہر ایک کو آج ہی انہیں حفظ کر لینا چاہیے۔

اور ہمیشہ یہ دعا کرتے رہیں: "اللهم إني أعوذ بك من فتنة المحيا والممات ومن شر فتنة المسيح الدجال"۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آخر زمانے میں ایسے مرد آئیں گے جو مرد نہیں ہوں گے، وہ عورتوں کی مانند لباس پہنیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو تو جان لو کہ قیامت قریب ہے۔"

یا اللہ، ہم آپ سے حسن خاتمہ کی دعا کرتے ہیں۔ آمین۔

لائک_کریں_اور_فالو_کریں_تاکہ_سب_فائدہ_اٹھا سکیں

16/02/2026

مجلس میں موجود ہر شخص کی طرف یوں اہتمام سے متوجہ ہوتے کہ ہر کوئی سمجھتا کہ مجھ سے زیادہ آپ کو کوئی عزیز نہیں
❤ #صلی‌الله‌علیه‌وسلم ❤

11/02/2026

"تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟
وہ کہیں گے: `ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے`۔" (سورۃ
المدثر)

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Zadi Queen, Glam Hustle
05/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Zadi Queen, Glam Hustle

03/02/2026

🌹 *شب براءت؛ فضائل، مسائل، بدعات*🌴

📝 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ* 📝

🍀 *ماہ شعبان کی پندرھویں رات بہت فضیلت والی رات ہے۔احادیث مبارکہ میں اس کے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں اور اسلاف امت بھی اس کی فضیلت کے قائل چلے آ رہے ہیں۔ اس رات کو ”شب براءت“ کہتے ہیں، اس لیے کہ اس رات لا تعداد انسان رحمت باری تعالیٰ سے جہنم سےنجات حاصل کرتے ہیں۔*

⭕ *شب براءت کے متعلق لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔بعض تو وہ ہیں جو سرے سے اس کی فضیلت کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کی فضیلت میں جو احادیث مروی ہیں انھیں موضوع و من گھڑت قرار دیتے ہیں۔جبکہ بعض فضیلت کے قائل تو ہیں لیکن اس فضیلت کے حصول میں بے شماربدعات، رسومات اور خود ساختہ امور کے مرتکب ہیں، عبادت کے نام پر ایسے منکرات سر انجام دیتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔*

✅ *اس بارے میں معتدل نظریہ یہ ہے کہ شعبان کی اس رات کی فضیلت ثابت ہے لیکن اس کا درجہ فرض و واجب کا نہیں بلکہ محض استحباب کا ہے، سرے سےاس کی فضیلت کا انکار کرنا بھی صحیح نہیں اور اس میں کیے جانے والے اعمال و عبادات کو فرائض و واجبات کا درجہ دینا بھی درست نہیں۔*

🔷 *فضیلت شب براءت احادیث مبارکہ سے:*

*شبِ براءت کی فضیلت میں بہت سی احادیث مروی ہیں،اگرچہ ان میں سے بعض سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں لیکن چونکہ فضائل میں ضعیف احادیث بھی مقبول ہیں۔*

(تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب اصول حدیث)

*اورکثرتِ روایات و اسناد مل کر اس ضعف کو دور کر دیتی ہیں۔ مزید امت کا تعامل اور اسلاف کا اس رات کےقیام پر عمل پیرا چلے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایات مقبول ہیں اور لیلۃ البراءت کی اصل ضرور ہے۔ چند ایک روایات نقل کی جاتی ہیں۔*

🌷 *حدیث نمبر 1:*
*حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ[ ایک رات] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:*
*أَتَدْرِينَ أَيَّ لَيْلَةٍ هَذِهِ ؟ "، قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذِهِ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطْلُعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ الْمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ۔قال الامام البیہقی: هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ*

(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث 3554، جامع الاحادیث للسیوطی: رقم 7265،کنز العمال: رقم الحدیث 7450)

*ترجمہ(اے عائشہ!) کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کون سی رات ہے؟میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ رب العزت اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتے ہیں؛ بخشش چاہنے والوں کو بخش دیتے ہیں، رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔*

🌷 *حدیث نمبر 2:*
*عَنِ أَبِي بَكْرٍالصِّدِّیْقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِكُلِّ شَيْءٍ إِلَّا رَجُلٍ مُشْرِكٍ أَوْ فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ*

(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث 3546، مجمع الزوائد للہیثمی: رقم 12957)

*قال الہیثمی: رواه البزار وفيه عبد الملك بن عبد الملك ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل ولم يضعفه وبقية رجاله ثقات*

(مجمع الزوائد للہیثمی:تحت الرقم 12957)

*قال المنذری: اسنادہ لا باس بہ*

(الترغیب و الترہیب: تحت الرقم 4190)

*ترجمہ:حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتے ہیں اس رات ہر ایک کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس شخص کےجو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا ہویا وہ شخص جس کے دل میں ( کسی مسلمان کے خلاف) کینہ بھرا ہو۔*

🌷 *حدیث نمبر 3:*
*عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : هل تدرين ما هذه الليل ؟ يعني ليلة النصف من شعبان قالت : ما فيها يا رسول الله فقال : فيها أن يكتب كل مولود من بني آدم في هذه السنة وفيها أن يكتب كل هالك من بني آدم في هذه السنة وفيها ترفع أعمالهم وفيها تنزل أرزاقهم۔*

(مشکوۃ المصابیح: رقم الحدیث1305)

*ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے عائشہ!) کیا تمھیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرھویں رات میں کیا ہوتا ہے؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں کیا ہوتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سال جتنے انسان پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ اس سال میں مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں۔اس رات بنی آدم کےا عمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔*

*تنبیہ: اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ شبِ براءت کے بعد والے سال میں پیدا ہونے والے اور فوت ہونے والے انسانوں کے نام وغیرہ اس رات میں لکھے جاتے ہیں جبکہ یہ چیزیں تو لوحِ محفوظ میں لکھی جا چکی ہیں، پھر لکھنے کا کیا مطلب؟ جواب یہ ہے کہ اس رات میں لکھنے سے مراد یہ ہےکہ لوحِ محفوظ سے فہرستیں لکھ کران امور سے متعلقہ فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہیں۔ و اللہ اعلم بالصواب*

🌷 *حدیث نمبر 4:*
*آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:*
*أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلَّهِ فِيهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُورِ غَنَمِ كَلْبٍ، لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَ الِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ*

(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث 3556، الترغیب و الترہیب للمنذری: رقم الحدیث 1547)

*ترجمہ: حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائےاور فرمایا:یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابرلوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے لیکن اس رات مشرک،کینہ رکھنے والے، قطع رحمی کرنے والے، ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، ماں باپ کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر(رحمت) نہیں فرماتے۔*

💐 *شب براءت اکابرین امت کی نظر میں:*
🌱 *1: جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
*مَا مِنْ لَيْلَةٍ بَعْدَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفْضَلُ مِنْ لَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ*

(لطائف المعارف: ابن رجب الحنبلی: ص151)

*ترجمہ: لیلۃ القدر کے بعدشعبان کی پندرھویں رات سے زیادہ افضل کوئی رات نہیں۔*

🌱 *2: علامہ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
*لَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ كَانَ التَّابِعُوْنَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ كَخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمَكْحُوْلٍ وَ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ وَ غَيْرِهِمْ ،يُعَظِّمُوْنَهَا وَ يَجْتَهِدُوْنَ فِيْهَا فِي الْعِبَادَةِ وَ عَنْهُمْ أَخَذَالنَّاسُ فَضْلَهَا وَ تَعْظِيْمَهَا۔*

(لطائف المعارف: ابن رجب الحنبلی: ص151)

*ترجمہ:اہلِ شام کے تابعین حضرات مثلاً امام خالد بن معدان،امام مکحول، امام لقمان بن عامر وغیرہ شعبان کی پندرھویں رات کی تعظیم کرتے تھےاور اس رات خوب محنت سے عبادت فرماتے تھے۔انہی حضرات سے کوگوں نے شبِ براءت کی فضیلت کو لیا ہے۔*

🌱 *3:امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
*وَبَلَغَنَا أَنَّهُ كان يُقَالُ إنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ في خَمْسِ لَيَالٍ في لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْأَضْحَى وَلَيْلَةِ الْفِطْرِ وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ من رَجَبٍ وَلَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ وأنا أَسْتَحِبُّ كُلَّ ما حُكِيَتْ في هذه اللَّيَالِيِ من غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فَرْضًا*

(کتاب الام للشافعی: ج1 ص231 العبادة لیلۃ العيدين، السنن الکبریٰ للبیہقی: ج3، ص319)

*ترجمہ:ہمیں یہ بات پہنچی ہےکہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا[زیادہ] قبول ہوتی ہے۔۱: جمعہ کی رات، ۲:عید الاضحیٰ کی رات،۳: عید الفطر کی رات، ۴:رجب کی پہلی رات، ۵:نصف شعبان کی رات۔ میں نے ان راتوں کے متعلق جو بیان کیا ہے اسے مستحب سمجھتا ہوں فرض نہیں سمجھتا*

🌱 *4:علامہ زین الدین بن ابراہیم الشہیربابن نجیم المصری الحنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
*وَمِنْ الْمَنْدُوبَاتِ إحْيَاءُ لَيَالِي الْعَشْرِ من رَمَضَانَ وَلَيْلَتَيْ الْعِيدَيْنِ وَلَيَالِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ وَلَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ كما وَرَدَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ وَذَكَرَهَا في التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ مُفَصَّلَةً*

(البحر الرائق لابن نجیم: ج2، ص56)

*ترجمہ:رمضان کی آخری دس راتوں میں، عیدین کی راتوں میں،ذوالحجہ کی دس راتوں میں، شعبان کی پندرھویں رات میں شب بیداری کرنا مستحبات میں سے ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہےاور علامہ منذری رحمہ اللہ نے انہیں ترغیب و الترہیب میں مفصلاً بیان کیا ہے۔*

🌱 *5:محدث جلیل حضرت علامہ مولانا محمد انور شاہ الکشمیری رحمہ ا للہ فرماتے ہیں:*
*اِنَّ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْبَرَاءَةِ وَصَحَّ الرِّوَايَاتُ فِي فَضّلِ لَيْلَةِ الْبَرَاءَةِ*

(العرف الشذی: ج2 ص250 )

*ترجمہ:یہ رات”لیلۃ البراءت“ ہے اور اس لیلۃ البراءت کی فضیلت کے بارے میں روایات صحیح ہیں۔*

🌱 *6:حکیم الامت، مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
*”شبِ براءت کی اتنی اصل ہے کہ پندھویں رات اور پندرھواں دن اس مہینے کا بہت بزرگی اور برکت کا ہے ۔ “*

(بہشتی زیور:حصہ ششم، ص58)

🌱 *7: شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں:*
*”شب براءت کی فضیلت میں بہت سی روایات مروی ہیں، جن میں سے بیشتر علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ”الدر المنثور“ میں جمع کر دی ہیں……ان روایات کے ضعف کے باوجود شبِ براءت میں اہتمامِ عبادت بدعت نہیں۔ اول تو اس لیے کہ روایات کا تعدد اور ان کا مجموعہ اس پر دال ہے کہ لیلۃ البراءت کی فضیلت بے اصل نہیں، دوسرے امت کا تعامل لیلۃ البراءت میں بیداری اور عبادت کا خاص اہتمام کرنے کا رہا ہے اور یہ بات کئی مرتبہ گزر چکی ہے کہ جو بھی ضعیف روایت مؤید بالتعامل ہے وہ مقبول ہوتی ہے۔ لہذا لیلۃ البراءت کی فضیلت ثابت ہے اور ہمارے زمانے کے بعض ظاہر پرست لوگوں نے احادیث کے محض اسنادی ضعف کو دیکھ کر لیلۃ البراءت کی فضیلت کو بے اثر قرار دینے کی جو کوشش کی ہے وہ درست نہیں“*

(درسِ ترمذی: ج2 ص579)

🌗 *پندرہ شعبان کا روزہ:*
*حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:*
*عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها . فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا . فيقول ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا من مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا حتى يطلع الفجر*

(سنن ابن ماجہ: رقم الحدیث 1388، شعب الایمان للبیہقی: ج3، ص378)

*ترجمہ: جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آئے تو اس رات قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے (لے کر صبح صادق تک) آسمانِ دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، اور ارشاد فرماتے ہیں: کوئی ہےبخشش طلب کرنے والا؟تو میں اس کو بخش دوں! کوئی ہے رزق کا طالب؟ میں اس کو رزق دوں! کوئی ہے مصیبت زدہ ؟میں اس کو مصیبت سے نجات دوں! کوئی ہے ایسا؟ کوئی ہے ایسا؟ اللہ رب العزت کی طرف سے یہ اعلان صبحِ صادق تک جاری رہتا ہے۔“*

*اس حدیث میں پندرہ شعبان کے روزے کا تذکرہ ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے ۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض ( ہر مہینہ میں ۱۳، ۱۴، ۱۵)کے روزے بھی رکھا کرتے تھے، اور پندرہ شعبان بھی انہی تاریخوں میں سے ہے۔ ان وجوہ سے بعض علماء کرام نے پندرہ شعبان کا روزہ مستحب قرار دیا ہے۔ لیکن یہ ملحوظ رہے کہ اسے سنت یا ضروری نہ سمجھا جائے۔*

*صدرمفتی دار العلوم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
*”پندرھویں تاریخ شعبان کا روزہ مستحب ہے، اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں ہے“*

(فتاوٰی دار العلوم دیوبند: ج 6ص309)

⛔ *شب براءت میں قبرستان میں جانا:*
*حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:*
*فقدت رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة فخرجت فإذا هو بالبقيع فقال أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله ؟ قلت يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نساءك فقال إن الله عز و جل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيفغر لأكثر من عدد شعر غنم كلب*

(جامع الترمذی رقم الحدیث:739)

*ترجمہ:ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا، تو میں آپ کی تلاش میں نکلی۔ پس کیا دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں تشریف فرماتھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کر سکتے ہیں؟تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتے ہیں۔*

*اس روایت سے آنحضرت کا شب براءت میں قبرستان جانا معلوم ہوا لیکن آپ کا اس پر مداوت اختیار کرنا ثابت نہیں لہذا اسے سنت مستمرہ نہ کہا جائے گا بلکہ شب براءت میں کبھی کبھی شب براءت میں زیارت قبور کے لیے چلا جائے تو مضائقہ نہیں۔لیکن ہر شب براءت میں جانے کا اہتمام والتزام کرنا ،اسے ضروری سمجھنا، اسے شب براءت کے ارکان میں داخل کرنا اور قبرستان کی اس حاضری کو شب براءت کا جزوِ لازم سمجھنا منکرات میں سے ہے۔ قبور پر اجتماعی حاضری ،میلہ ٹھیلا کا سماں اور چراغاں کرنا وغیرہ ایسے امور میں جو بدعات ہیں ۔اس طرح یہ عمل مستحب نہیں بلکہ گناہ بن جائے گا۔ آنحضرت سے جس درجہ میں یہ عمل ثابت ہوا اسی میں رکھا جائے تاکہ وہ عمل منکر اور گناہ ہونے سے بچ جائے۔*

*شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں:*
*”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث باب سے لیلۃ البراءت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بقیع جانا معلوم ہوا، جو شبِ براءت میں قبرستان جانے کی اصل ہے۔ لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر مداومت ثابت نہیں اس لیے اس کو سنتِ مستمرہ کا درجہ دینا بھی صحیح نہیں۔ہاں کبھی کبھی چلا جائے تو مضائقہ نہیں“*

(درسِ ترمذی :ج2 ص581)

⚠ *شب براءت کی چند بدعات ومنکرات:

1:مساجد میں شب بیداری کے لیے عوام کا اجتماع کرنا، اشتہارات واعلانات کے ذریعے لوگوں کو جمع کرنا۔*

2:شب براءت میں خاص قسم کی نمازیں پڑھنا۔مثلاً ایک موضوع ومن گھڑت روایت کی بنا پر سو رکعت والی نماز پیش کی جاتی ہے۔*

(درس ترمذی: ج2ص579)

3:شب براءت میں حلوہ کا پابندی سے پکانا اور اس کے بغیر شب براءت کی فضیلت سے محروم ہونے کا نظریہ رکھنا۔*

4:شب براءت میں فوت شدہ لوگوں کی ارواح کا اپنے گھروں میں واپس آنے کا عقیدہ رکھنا۔*

5:شب براءت میں قبرستان میں میلہ کرنا،چراغاں کرنا اور جماعتوں اور ٹولیوں کی شکل میں جمع ہونا۔*

6:شب براءت میں مسور کی دال پکانے کو ضروری سمجھنا۔*

7:شب براءت میں آتش بازی کرنا۔

Address

Online Market
Karachi

Telephone

+923302414884

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Modern Era watches posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Modern Era watches:

Share