01/05/2017
وہ ایک حفظ کلاس کی ٹیچر تھی. کبھی کوئی بچہ سبق یاد کر کے نہ آتا تو ہرگز یہ نہیں کہا کرتی کہ آپ نالائق بچے ہو سبق نہیں یاد کر کے آتے بلکہ نرمی اور پیار سے یہ پوچھا کرتی کہ بیٹا آپ کے گھر میں سب خیریت تو ہے نا آج آپ سبق نہیں یاد کر سکے? اگر اس بچے کے گھر میں واقعی کوئی مسئلہ ہوتا تو اُس کو حوصلہ دیتی اور خود یا اپنے کسی لائق شاگرد سے کہ کر جو سبق سنا چکا ہو اور فارغ ہو اُس بچے کو سبق یاد کروا دیتی. اور اگر کسی کو سبق یاد کرنا مشکل لگا ہوتا اس لئے نہ یاد کیا ہوتا تو سبق یاد کرنے کا طریقہ سمجھا دیتی اور وقت ہوتا تو اپنے پاس بٹھا کر باقی بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ اُس بچے کو بھی سبق یاد کروادیتی. بچّے اُس سے بے حد محبت کرتے تھے اور اُسکی ہر بات مانا کرتے. کیونکہ وہ اُنکو آسانیاں دیتی تھی پڑھائی کو بچوں کے لئے آسان سے آسان بنا نے کی کوشش کرتی. اگر کوئی بچہ صبح سست نظر آتا تو وہ اُسکو بلا کر پوچھتی کہ بیٹا طبعت تو ٹھیک ہے, ناشتہ کر کے آئے ہو, رات جلدی سوئے تھے? پہر جب معلوم ہوتا نیند پوری نہیں تو وہ اُس کو آدھا پونہ گھنٹے کے لئے کلاس میں ایک طرف کو جا کر سوجانے کو کہتی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر بچہ فریش نہیں تو وہ سارا دن ہی نہیں پڑھ سکے گا بجائے اُس کے کہ وہ سارا دن ضائع کرے اور کچھ نہ سنانے آئے وہ کچھ وقت کا بچے کا سوجانا برداشت کرلیتی تھی. کچھ دیر بچہ سو کر وضو کر کے تازہ دم ہو کے پڑھنے لگتا تھا اُس بچے کا سارا وقت ضایع ہونے سے بچ جاتا تھا. اگر کوئی بچہ ناشتہ نہ کر کے آیا ہوتا تو وہ دس منٹ کا وقفہ دے کر اُسکو کلاس کے ایک کونے میں گھر سے لائے ہوئے ناشتے کو کھانے کو کہتی یا اگر بچہ گھر سے کچھ نہ لایا ہوتا تو اپنی کلاس کی الماری میں اُس نے کچھ چیزیں رکھی ہوتی تھیں کھانے کی وہاں سے لے کر اُس بچے کو کھا نے کو دیے دیتی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ خالی پیٹ بچہ کبھی توجّہ سے نہیں پڑھ سکتا نہ ہی اسکو یاد ہوگا اور یہ اس بچے پہ ظُلم ہوگا. اگر بچے کی طبعت ٹھیک نہ ہوتی تو والدین کو اطلاع کروا کر بچے کو گھر بھیج دیتی. جب بچے اچھا پڑھتے اچھا سناتے وہ انکو انعام دیا کرتی. جو بچہ پورا ہفتہ ہی اچھا پڑھتا اُسکا نام بلیک بورڈ پہ نمایا کر کے لکھتی جس سے اُس بچے کی حصلہ افزائی ہوتی اور باقی بچوں میں بھی شوق پیدا ہوتا پہر اُس کی روزانہ کی ڈائیری پہ شاباش اور اچھے کمنٹس دیا کرتی کہ بچے کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی حوصلہ افزائی ہوجائے جو بچے پر گھر میں بھی محنت کرتے ہیں اور اُسکو گھر کا کام یاد کروا کر بھیجتے ہیں. جب کوئی بچہ جلدی پڑھ کر اور اچھا سُنا کر فارغ ہوجاتا وہ اسکو تفریح کے لئے کلاس سے باہر کھیلنے بھیج دیتی جس سے باقی بچوں میں بھی شوق پیدا ہوتا کہ وہ بھی اپنا کام جلدی اور اچھا سُنا کر کھیل میں شریک ہوسکیں. ہفتے میں ایک دن بچوں کو جلدی پڑھا کر اُن سے کچھ تربیتی باتیں کرتی اور کچھ اچھے اسلامی واقعات سناتی. بچوں کو اکثر قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت سناتی جس سے بچوں کے اندر مزید شوق پیدا ہوتا. وہ ہمیشہ بچوں سے آپ جناب کر کے اور شفیق لہجے میں گفتگو کرتی کہ وہ جانتی تھی قرآن پاک پڑھنے اور پڑھانے والے اللہ کے اھل اور خواص ہیں اس لئے انکی عزت بہت زیادہ ہے. کبھی جب کسی بچے سے کوئی غلطی ہوجاتی اور اسکو شکایت ملتی تو وہ سب کے سامنے نہیں سمجھایا کرتی بلکہ مجموعی طور پہ پوری کلاس کو سمجھاتی جس سے بچہ اس کے یا سب کے سامنے شرمندگی نہیں محسوس کرتا. الحمد للہ اِن چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال کرنے سے بہت سے ایسے بچے بھی اس کے پاس حافظ بنے جن کے والدین مایوس تھے کہ اُنکا بچہ حفظ نہیں کر سکتا. اللہ پاک ہم سب پڑھانے والوں کو سمجھ اور فھم عطاء کرے کہ ہم بچوں کو انتہائی محبت اور شفقت سے قرآن پاک اور دنیاوی تعلیم دے سکیں. آمین یا رب العلمین. 8322722-0334