21/07/2025
فرنٹیئر کور میں حل طلب مسائیل اور ان کا ممکنہ حل
گراؤنڈ زیرو/ رضوان ظفر گورمانی
کسی بھی ملک کے لیے فوج اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مضبوط فوج مضبوط ملک کی ضامن ہوتی ہے۔یہ دنیا دو دو بار عالمی جنگوں کو بھگت چکی ہے اس وقت بھی زمین پہ خانہ جنگی جاری ہے۔
دنیا افریقہ سے لے کر میانمار تک شام سے لے کر یوکرین تک کہیں باغی کہیں پروکسی کہیں سول وار تو کہیں دہشتگردی جیسے مسائیل کا شکار ہے جس کا حل مضبوط فوج کی صورت میں پنہاں ہے۔اس زمین پہ کل ڈھائی سو ملک بھی نہیں ہیں ان ممالک میں نمایاں پوزیشن کے حصول میں مضبوط فوج بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستانی فوج کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے اداروں سے اختلاف ہو سکتا ہے ان پہ تنقید بھی ہو سکتی ہے ان کی کارکردگی پہ بھی بات کی جا سکتی ہے۔یہ سب اپنی جگہ مگر پاکستان کو درپیش مشرق و مغرب کے خطرات ہوں یا دہشتگردی اندرونی خلفشار ہو یا ہوائی جارحیت یا پھر قدرتی آفات ہماری فوج ہراول دستے کا کردار ادا کرتی ہے۔کتنے ہی ماؤں نے اپنے جوان فوجی بیٹوں کی چھاتیاں زخموں سے چور دیکھ کر بھی سجدہ شکر ادا کیا ہے کتنی نوبیاہتا دلہنیں اپنے سہاگ کے انتظار میں بیٹھی رہ گئیں اور سہاگ وطن پہ قربان ہو گیا۔کتنے معصوم بچے بچیاں منہ اندھیرے باپ کو ڈیوٹی پہ رخصت کر کے مہینوں مہینوں ان کے آنے کا انتظار کرتے رہ گئے اور باپ جھنڈے میں لپٹا واپس آیا۔پاکستان بھر میں ایسی کئی کہانیاں آپ کو دیکھنے کو مل جائیں گی۔ملک پہ جان لٹاتا ہر فوجی ہمارا فخر ہے۔ایسے ہی جذبوں سے لیس ہماری افواج کا اک اہم حصہ ایف سی یعنی فرنٹیئر کور بھی ہے جو سرحدی علاقوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ایف سی اہلکار اپنی جانوں کی بازی لگا کر وطن کی
حفاظت کرتے ہیں۔میں سوشل.میڈیا پہ ایف سی کے پیجز اور گروپس کا حصہ ہوں کہ جن دو صوبوں میں ان کی ڈیوٹی ہوتی ہے دونوں حساس ہیں اور آئے دن بم دھماکوں اور حملوں میں ہم ایف سی کے جوانوں کہ شہادت کی خبریں سنتے رہتے ہیں۔یہ صرف اک اہلکار نہیں اک خاندان ہوتا ہے۔اپنے گھر سے دور رہنے والا اپنی فیملی سے دور اپنے بیوی بچوں سے دور اپنے بوڑھے والدین سے دور سنگلاخ پہاڑوں میں سخت موسم میں وطن کی حفاظت کرنے والا نوجوان۔
آئے روز میں ان نوجوانوں کی تحریریں پڑھتا ہوں جس میں کوئی نوبیاہتا دلہا اپنی چند ر