Allma Muhammad Iqbal

Allma Muhammad Iqbal Kontaktinformationen, Karte und Wegbeschreibungen, Kontaktformulare, Öffnungszeiten, Dienstleistungen, Bewertungen, Fotos, Videos und Ankündigungen von Allma Muhammad Iqbal, Twechte 3, Göttingen.

25/04/2026

علامہ اقبال
از مولانا امین احسن اصلاحی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے ماہنامہ الاصلاح اعظم گڑھ -مئی 1938ء میں علامہ اقبال پر یہ مضمون لکھا تھا، زبان و بیان اور فکر کی تابانی دیکھئے آج بھی اسی طرح موجود ہے.شاید اسی لئے انھیں بڑے لوگ کہا جاتا ہے.

علامہ اقبال از مولانا امین احسن اصلاحی

علامہ اقبال اپنی قوم کو چھوڑ کر جوارِ رحمتِ الہٰی میں پہنچ گئے۔

ربنااغفرلنا ولا خواننا الذین سبقو نا بالایمان۔

یہ دَور ہمارے عروج و اقبال کا دَور نہیں، بد بختی و ادبار کا دَور ہے۔ ہم پاتے کم ہیں، کھوتے زیادہ ہیں۔ اونچے درجے کے اشخاص ہم میں اولاً تو پیدا نہیں ہوتے اور اگر دو چار پیدا ہوتے ہیں تو قبل اس کے کہ ان کے جانشین پیدا ہوں، وہ اپنی جگہ خالی چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔ اپنی قوم کے ان لوگوں کو گنیے جن کے دم سے آج ہماری آبرو قائم ہے اور پھر دیکھیے کہ ایک ایک کر کے ان کی صف کس طرح ٹوٹتی جا رہی ہے اور کوئی نہیں جو ان کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھے قوموں کے مرنے اور جینے کا ایک اصول ہے جو ہمارے موجودہ فلسفۂ قلت و کثرت سے بالکل مختلف ہے۔ ہم صرف سَروں کو گننے کےعادی ہو رہے ہیں حالاں کہ زندگی سَروں سے نہیں بلکہ دماغوں اور دماغوں سے زیادہ دلوں سے ہے۔

؎ مجھے یہ ڈر ہےدلِ زندہ تو نہ مر جائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

جن لوگوں کے سامنے معاملہ کی یہ حقیقت، اپنی پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے، کون بتا سکتا ہے کہ علامہ اقبال کی موت نے ان کے دلوں کا کیا حال کیا! دنیا تقدیر سے شکوہ سنج ہوتی ہے تو سر پیٹتی ہے، اور دشمن کی چیرہ دستیوں سے چڑتی ہے تو انتقام لیتی ہے، لیکن اقبال کا نوحہ خواں کیا کرے وہ تو صرف خدا ہی سے شکوہ کر سکتا ہے۔

انما اشکو بثی و حزنی الی اللہ!

غالباً 1916ء یا 1917ء کا واقعہ ہے۔ استاد مرحوم مولانا عبد الرحمٰن نگرامی، طلبہ کی مجلس میں اقبال کا شکوہ پڑھ رہے تھے۔ میں اس مجلس میں موجود تھا۔ یہ پہلی مجلس ہے جس میں میں نے شعر کے اثر کو آنکھوں سے دیکھا۔ آنکھوں سے اس لیے کہ اس وقت تک میرے دماغ میں شعر کی خوبیوں اور نزاکتوں کو سمجھنےکی صلاحیت نہیں پیدا ہوئی تھی۔

میں مجلس میں بیٹھا ہوا صاف سن رہا تھا کہ اقبال کے شعروں کی صدائے بازگشت در ودیوار سے بلند ہو رہی ہے اور آنکھوں سے علانیہ مشاہدہ کر رہا تھا کہ آسمان سے کوئی چیز برس رہی ہے اور ساری زمین ہل رہی ہے۔ میں نے آج تک کوئی مجلس اتنی پُر اثر نہیں دیکھی اور اس ایک مرتبہ کے علاوہ شاید کبھی میرے دل نے شاعر بننے کی آرزو نہیں کی۔ لیکن یہ آرزو پوری نہیں ہوئی کیوں کہ میں نے اقبال بننے کی آرزو کی تھی اوراقبال صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ آج بیس بائیس برس کے بعد اس مجلس کی لذیز یاد پر رونا بھی آتا ہے اور ہنسی بھی!! ہنسی بچپنے کی اس سادہ لوحی پر کہ شاعر ہونا تو درکنار اقبال کے شعروں کو سمجھنےکی اہلیت بھی پیدا نہیں ہوئی اور رونا اس لیے کہ وہ عظیم الشان ہستی آج اٹھ گئی ہے جو حوصلوں اور ولولوں کو دعوتِ رفعت و سبقت دینے کے لیے ایک نشان پرواز اور دماغوں کی رہنمائی و قیادت کے لیے "پہاڑی کا چراغ" تھی۔

شاید وکٹر ہیوگو نے کہا ہے "زندگی کتنی ہی شاندار اور عظیم الشان ہو لیکن تاریخ اپنے فیصلہ کے لیے ہمیشہ موت کا انتظار کرتی ہے"۔ دنیا کے لیے ممکن ہے یہ ایک مسلمّہ حقیقت ہو۔لیکن اقبال کے لیے تاریخ نے اپنے اس کلیہ کو توڑ دیا۔ اقبال کی عظمت کی گواہی دلوں نے ان کی زندگی میں دے دی، اب تاریخ کے لیے صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ وہ دلوں کے تاثرات کو محفوظ اور قلم بند کر لے۔

اقبال اس بزم میں یا تو بہت بعد میں آئے تھے، یا بہت پہلے۔ اتنے بعدکہ اہلِ مجلس کے دماغوں اور دلوں میں ان خیالات و افکار کے لیے ایک چھوٹے سے نقطہ کے برابر بھی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ یا اتنے پہلےکہ جس صبح صادق کے وہ مبشر تھے نہ صرف یہ کہ افق میں ابھی اس کی صبح کاذب کا کوئی نشان بھی نمودار نہ ہوا تھا۔ بلکہ دنیا پر ابھی نصف شب کی ہولناک تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ لیکن اقبال کو اللہ تعالیٰ نے تسخیرِ قلوب و ارواح کے لیے اس نفوذ میں سے ایک حصہ عطا فرمایا تھا، جسے وہ صرف اپنے ان بندوں کو مسلح فرماتا ہے جو وقت کی فاتحیت کا تاج پہن کر آتے ہیں۔ چناں چہ تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے دیکھا کہ جس شخص کی باتیں اہلِ مجلس کے لیے اتنی بیگانہ تھیں کہ ایک شخص بھی ان کو سمجھنے والا نہ تھا۔ اب اتنی مانوس و محبوب ہوگئی ہیں کہ ہر بزم و انجمن کا افسانہ ہیں اور کوئی دل ایسا نہیں ہے جو اقبال کی عظمت کے آگے جھک نہ گیا ہو۔

اقبال نے جس جرات کے ساتھ ہمارے علم و عمل کے ایک ایک گوشہ پر تنقید کی اورجس بے خوفی کے ساتھ اپنی دیکھی ہوئی راہوں پر چل پڑنے کی دعوت دی، اس میں پیغمبرانہ عزیمت کی نمود ہے۔ جہاں تک جرح و تنقید کا تعلق ہے، مولانا حالی کی زبان بھی تیغ و سناں سے کم نہ تھی، ان کا تیشہ بھی ہمارے عمل و اعتقاد کے ہر گوشہ کے لیے بے امان تھا۔ وقت سوسائٹی جن عناصرسے مرکب تھی ان میں سے ایک ایک کو چُن کر حالی نے پکڑا اور قوم کی عدالت میں مجرم ٹھہرا کر ان کو بے دریغ سزا دے دی اپنی بے پناہ قوت سے ہمارے تمام اعمال و معتقدات کو ایک نئی راہ پر لگا دیا۔ لیکن حالی کا کام آسان تھا۔ وہ قوم کو زمانہ کے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔

؎ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

اور زمانہ اپنی تمام رعنائیوں اور دلربائیوں کے ساتھ ان کی رفاقت کے لیے آمادہ کار ہو چکا تھا۔ ان کو جودیواریں ڈھانی تھیں وہ خود متزلزل ہو چکی تھیں اور جو عمارت بنانی تھی اس کے لیے دستِ غیب خود چونہ اور گارا مہیا کر رہا تھا۔ وہ خزاں کی بلبل ضرور تھے مگر موسمِ گل کی آمد آمد ان کو شہ بھی دے رہی تھی۔

مگر اقبال ــــــ اللہ اکبر! اس کی سطوت و جلالت کا کون اندازہ کر سکتا ہے وہ زمانہ سے جنگ کرنے کے لیے آیا تھا۔

؎ زمانہ باتو نسازد تو با زمانہ ستیز

ان کو جو پیغام دینا تھا، نہ صرف یہ کہ زمانہ اس سے آشنا نہیں رہ گیا تھا بلکہ وقت کی ذہنیت بالکل اس سے مختلف قالب پر ڈھل چکی تھی اور اس کائنات کی تمام قوتیں ہم کو ایک نئی سمت میں کھینچ لے جانے کے لیے نہ صرف پوری طرح طاقتور ہو چکی تھیں بلکہ ہم نصف سے زیادہ منزل اس راہ کی طے بھی کر چکے تھے۔ مگر اقبال تسخیر قلوب و ارواح کی ایک غیبی طاقت سے مسلح ہو کر آیا اور اس نے ہم کو ایک بڑے خطرہ سے بچا لیا اوریقیناً یہ اسی کی برکت ہے کہ ہم جو ہر شکل و ہئیت کو قبول کر لینے کے لیے موم کی طرح نرم ہو چکے تھے، گو چٹان کی طرح سخت نہ ہو چکے ہوں لیکن اتنی صلابت ہم میں ضرور آچکی ہے کہ ہر انگلی ہم پر تصرف نہیں کر سکتی۔ یہ خودی کا وہی احساس ہے جس کو اقبال نے پوری قوت سے جھنجوڑ کر بیدار کرنے کی کوشش کی۔

اقبال کے فلسفہ پر غور کرنے والے، اس کا سراغ نٹشے اور برگسان میں لگانا چاہتے ہیں یہ اس لیےکہ ہماری منفعل اور مرعوب ذہنیت تصور بھی نہیں کر سکتی کہ یہ بادۂ تند مشرق کے کسی میکدہ کی ہو سکتی ہے۔ حالاں کہ اقبال کے خیالات کا اصلی مصدر قرآن ہے۔ یوں تو اقبال نے کلمہ حکمت جہاں پایا اس کو لیا لیکن اس لیے کہ وہ اپنی چیز تھی۔ ورنہ جو خود کوہِ نورکی دولت کا مالک ہو وہ فقیروں کی کوڑیوں پر کیا نگاہ ڈالتا!

اقبال نے تو یہ ننگ تک گوارا نہ کیا کہ قرآنی صداقتوں اور عربی حکمتوں کو زمانہ کا آب و رنگ دے کر خوشنما بنائے۔ وہی پرانا کیسہ اور وہی بے ترشے ہوئے نگینے۔ مگر جب اقبال نے اپنی ہتھیلی پر رکھ کر ان کو پیش کیا تو نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئیں۔ اقبال کی دنیا ہی الگ تھی۔ جب سب شفاخانۂ حجاز میں زندگی ڈھونڈنے نکلےتو وہ ریگستانِ حجاز میںموت ڈھونڈتا تھا۔ جب مرمریں سلوں اور برقی قمقموں نے حرم کو جگمگادیا تو اس نے چڑ کر کہا

؎ میں نا خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے

میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

اور بے لوث صداقت کا اعجاز دیکھو کہ ہم صرف ڈھلی ہوئی ترشی ہوئی، ملمع کی ہوئی چیزوں ہی کے دیکھنے کے عادی ہیں۔ اقبال کی یہ سادگی ہم کو بھی دیوانہ بنا لیتی ہے اور باوجود یہ کہ بغیر عقل و منطق کو ساتھ لیے ہم ایک قدم چلنے کے عادی نہیں مگر جب اقبال کوئی بات کہہ دیتے ہیں تو کوئی نہیں جو ان سے دلیل مانگے، شاید یہ بات سچ ہے کہ

سچائی اگر سچے کی زبان سے نکلے تو وہ اپنی حمایت کے لیے منطق کی محتاج نہیں۔

اقبال اور ان کی شاعری سے قوم کی جو خدمتیں انجام پائی ہیں ان پر غور کرنا مؤرخ کا کام ہے۔ ہم صرف ایک بات کا حوالہ دینا چاہتے ہیں جس کو صرف اقبال ہی نے کیا اوروہی کر سکتے تھے۔

اگر اقبال نہ پیدا ہوتے تو یقیناً ہماے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعلیم ہمارے نوجوانوں کو اس طرح مسخ کر ڈالتی کہ ان کے اندر دین و ملت کے لیے حمیت و غیرت کا کوئی شائبہ باقی نہ رہ جاتا، وہ جس طرح ظاہر میں مسخ ہو گئے ہیں اس سے زیادہ ان کا باطن مسخ ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اقبال کو بھیجاجو معلوم نہیں کس طرح ظلمات کے ان توبرتو پردوں کو چاک کر کے ان کے دلوں میں بیٹھ گئے اور جب تک ان کی روح شعر اس کائنات کے اندر کار فرما ہے اس وقت تک انشاء اللہ ان میں درد کی ایک کسک باقی رہے گی، اگرچہ دلوں کی جگہ سینوں میں پتھر پیدا ہونے لگیں۔

جب مایوسیاں گھیر لیتی تھیں، ہم اقبال کے شعروں میں ایک نشانِ امید دیکھتے تھے جب تاریکیاں چھا لیتی تھیں اقبال ہمارے لیے شعاعِ ہدایت بن کر چمکتے تھے۔ وہ روحوں کو گرما دیتے تھے، دلوں کو تڑپا دیتے تھے۔ ان کی زبان سے ہم مشرق کے ضمیر کی صدائیں سنتے تھے، ان کی ہندی نغموں میں حجاز کی لے مضطرب تھی۔ وہ زمین کے تھے مگر ان کی پرواز آسمان تک تھی۔ وہ شاعر تھے مگر ان کی شاعری میں علمِ نبوت کی روح کارفرما تھی۔

وہ دنیاداروں کےبھیس میں قلندر اور دیوانوں کے رنگ میں دانائے راز تھے۔ خداوند! ہمارا یہ شاعر کہاں گیا! اس کی روح پر تیری بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں!!

#مومن

05/02/2026

کشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تُو ہے
عصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے

Kashti-e-Haq Ka Zamane Mein Sahara Tu Hai
Asr-e-Nau Raat Hai, Dhundla Sa Sitara Tu Hai

شرح:

یہاں "کشتیِ حق" سے مراد حق، دینِ اسلام، یا الٰہی نظامِ عدل و صداقت ہے جو زمانے کے طوفانوں میں گھرا ہوا ہے۔علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اے مسلمان نوجوان! زمانے کے اس ہنگامے میں، جہاں باطل قوتیں طاقتور اور سرگرم ہیں، حق کی کشتی کا سہارا تُو ہے۔دنیا میں اگر دینِ حق کو استقامت، تحفظ اور سربلندی نصیب ہونی ہے تو وہ تیرے وجود اور تیرے ایمان سے وابستہ ہے۔
اقبال نوجوان کو یہ احساس دلا رہے ہیں کہ وہ محض ایک تماشائی نہیں، بلکہ اللہ کے نظامِ حق کا محافظ اور علمبردار ہے۔یہ تصور براہِ راست اقبال کے فلسفۂ خودی سے جڑا ہے وہ خودی جو اپنے رب سے جڑ کر کائنات میں اثر انداز ہوتی ہے، اور جو کمزور نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی مرضی کی مظہر بن جاتی ہے۔

عصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے۔"عصرِ نَو" یعنی جدید زمانہ کو اقبال نے رات سے تشبیہ دی ہے اور اسی رات میں مسلمان نوجوان کو اقبال "دھندلا سا ستارا" کہتے ہیں یعنی اس کے اندر روشنی موجود ہے۔ ایمان کی، فکر کی، اور قوتِ عمل کی مگر وہ دھندلا چکا ہے، اپنی اصل سے غافل ہے۔یہ مصرع ایک طرف افسوس کا اظہار ہے کہ نوجوان نے اپنی روشنی کھو دی،اور دوسری طرف امید اور پیغامِ بیداری ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی دھندلکے سے نکل کر پوری امت کا رہنما ستارہ بن سکتا ہے۔اقبال اس شعر میں زمانے کے بحران اور امت کی ذمہ داری دونوں کو بیان کرتے ہیں۔جدید دنیا اگر اندھیری رات ہے تو نوجوان اس کا ممکنہ منور ستارہ ہے۔

جواب شکوہ
بانگِ درا

31/01/2026

فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف

علامہ اقبالؒ کے اس شعر میں ملتوں کے عروج و زوال کا ایک آفاقی اور ابدی اصول بیان ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ فطرت (یعنی قدرت یا نظامِ الٰہی) کبھی کسی فرد کی لغزش، کمزوری یا گناہ سے چشم پوشی کر لیتی ہے، کیونکہ ایک شخص کی خطا سے کائنات کے توازن پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔ مگر جب پوری ملت اجتماعی طور پر اپنی روحانی، اخلاقی اور فکری قدروں سے انحراف کر لیتی ہے، جب ایمان، اخلاص، دیانت اور عدل اس کے اجتماعی کردار سے مفقود ہو جاتے ہیں، تو فطرت اسے معاف نہیں کرتی۔ اس وقت زوال، غلامی اور رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک فرد کی توبہ نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر ملت کی توبہ اجتماعی بیداری اور خودی کی ازسرِ نو تعمیر سے ہی ممکن ہے۔ یہ شعر دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ قوموں کی بقا یا فنا ان کے اجتماعی کردار اور دینی شعور پر منحصر ہے، نہ کہ محض چند افراد کی نیکی یا پرہیزگاری پر۔

علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ
نظم: دِین و تعلیم
کتاب: ضربِ کلیم

24/01/2026

خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

اقبال یہاں مغربی تہذیب کے علمی و سائنسی نظام، اُس کی بظاہر چمکتی دمکتی ترقی، اور اس کے فکری نظم کو "جلوۂ دانشِ فرنگ" کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔لیکن وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ چمک دمک اُن کی روحانی بینائی کو متاثر نہیں کر سکی۔یعنی وہ نہ تو مرعوب ہوئے، نہ ہی اُن کی فکری بنیادیں مغرب کی عقلیت پر قائم ہوئیں۔اقبال کی نظر میں مغرب کا علم محض ظاہر بین اور مادی ترقی پر مرکوز ہے، جس میں قلب کی حرارت، روح کی پاکیزگی اور باطن کی روشنی مفقود ہے۔یہ علم صرف عقل تک محدود ہے، جب کہ اقبال کی نگاہ، عقل سے آگے دل اور روح کی گہرائیوں میں جھانکتی ہے۔ اقبال اپنی روحانی اور فکری روشنی کا اصل سرچشمہ بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں کی بینائی کو جِلا بخشنے والا، میری بصیرت کو روشن کرنے والا "سرمہ" مجھے مدینہ اور نجف کی خاک سے ملا ہے۔"مدینہ" حضور نبی کریم ﷺ کا شہر ہے، جہاں سے اُمت کو وحی، اخلاق، عشقِ الٰہی، اور روحانی انقلاب کی روشنی ملی۔"نجف" حضرت علیؑ کا مدفن ہے، جو علم، حکمت، شجاعت اور باطن کی سچائی کا مظہر ہے۔مدینہ و نجف کی خاک علامتی طور پر ان مقدس ہستیوں کی تعلیمات، روحانیت اور نورانیت کو ظاہر کرتی ہے۔یہی تعلیمات اقبال کی فکر کو روشنی عطا کرتی ہیں، یہی اُن کی آنکھ کا "سرمہ" ہیں، جنہوں نے اُنہیں مغربی فلسفے کی ظاہری چمک سے محفوظ رکھا۔ظاہری ترقی اور سائنسی علم کی چکاچوند میری آنکھوں کو خیرہ نہ کر سکی، کیونکہ میری بینائی کی اصل طاقت وہ روحانی نسبت ہے جو مجھے مدینہ و نجف کے در و دیوار سے ہے۔اقبال ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ سچی دانش وہ ہے جو دل کو جِلا دے۔

غزل:میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف
کتاب: بالِ جبریل

18/01/2026

نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھُوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

یہ شعر علامہ اقبال کی گہری بصیرت کا مظہر ہے جس میں انہوں نے موجودہ (یعنی مغربی اور مادّی) تہذیب کے باطن کو آشکار کیا ہے۔ بظاہر اس تہذیب کی چمک دمک انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک فریب ہے، جیسے جھوٹے نگینے (مصنوعی جواہرات) دور سے چمکتے تو ہیں مگر ان میں اصلیت اور قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ اقبال اس تہذیب کے "حقیقی حسن" کو رد کرتے ہیں اور اس کے کھوکھلے پن پر روشنی ڈالتے ہیں۔
مادی دنیا اپنی ظاہری ترقیات اور سائنس و ٹیکنالوجی کے کمالات کے ذریعے انسان کو متاثر کرتی ہے۔ فلک بوس عمارتیں، مشینوں کا جادو، بجلی اور روشنی کے کرشمے، نت نئی ایجادات ، یہ سب کچھ انسانی آنکھ کو مسحور کن معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہی چمک ہے جس کا ذکر اقبال "نظر کو خیرہ کرتی ہے" کے الفاظ سے کرتے ہیں۔ لیکن یہ ساری چمک اصل معنوں میں روحانی سکون اور انسان کی حقیقی آزادی نہیں دیتی، بلکہ انسان کو فریب میں مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ اصل حقیقت کو بھول جائے۔اقبال نے مغربی تہذیب کو "جھوٹے نگینوں" سے تشبیہ دی ہے۔ نگینے جب اصلی ہوں تو ان کی قیمت اور وقعت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ لیکن مصنوعی نگینے محض ظاہری حسن رکھتے ہیں، اندر سے کھوکھلے اور بے قدر ہوتے ہیں۔ یہی حال جدید تہذیب کا ہے، یہ تہذیب اخلاقی و روحانی قدروں سے خالی ہے۔ اس کا حسن عارضی اور فریبِ نظر ہے، جو وقتی طور پر تو خوشنمائی پیدا کرتا ہے مگر دیرپا حقیقت نہیں رکھتا۔اقبال دراصل متنبہ کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسانیت اس ظاہری چمک دمک سے دھوکہ نہ کھائے۔ اصل طاقت اور اصل حسن روحانیت، اخلاق، ایمان، اور خودی میں ہے۔ اگر انسان ان جھوٹے نگینوں کے پیچھے اپنی اصل حقیقت بھول گیا تو اس کا نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سچّے اور دائمی جواہر ایمان، عمل صالح، اور خدا شناسی ہیں،یہ نگینے کھوٹے نہیں بلکہ ہمیشہ چمکتے رہتے ہیں۔

علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ
نظم: طلوعِ اِسلام

09/01/2026

علامہ اقبال: گفتار اور کردار

قول و فعل کا تضاد سماج کو برباد کر دیتا ہے۔ نیکی رک جاتی ہے اور برائی پھیلتی ہے۔ ایک سچے مسلمان کے قول و فعل میں مطابقت ہونی چاہیئے جو کہے اس پر عمل کرے۔ جو شخص وعدہ پورا نہ کرے اور جھوٹ بولے اللہ کے رسولﷺ نے اسے منافق قرار دیا۔ قرآنی اخلاقیات کے مطابق قول و فعل میں تضاد اللہ کو ناراض کرنے والا عمل ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’اے ایمان والو ایسی باتیں کیوں کرتے ہو جن پر عمل نہیں کرتے اللہ کو سخت ناگوار ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں ہو‘‘۔(2:61)
ہماری سیاست، مذہب اور معیشت میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور منافقت آخری حدوں کو چھونے لگی ہے جس کی وجہ سے ہمارا سماج افراتفری اور نفسا نفسی کا شکار ہو چکا ہے۔
اقبال کے فلسفہ کا مرکزی نقطہ عمل اور کردار ہے۔ اقبال کو اپنے دور کے مسلمانوں سے یہی شکایت رہی کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے اور یہ بنیادی کمزوری مسلمان قوم کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اقبال ایسے مرد مومن اور انسان کامل کی تلاش میں نظر آتے ہیں جو پختہ کردار کا حامل ہو اور اس کے عملی کردار کی وجہ سے اس کی خودی اس بلندی پر پہنچ جائے کہ کائنات اُس کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔ شاعر مشرق کے کلام میں ہمیں جگہ جگہ عمل اور حرکت کا پیغام ملتا ہے۔ اُن کی شاعری کی بنیاد زیادہ تر عمل، تلاش، جستجو اور جدوجہد پر اُستوار ہے۔ اقبال نے عمل اور کردار کی اہمیت کو اپنے ان اشعار میں بیان کیا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

اقبال نے اپنے قلمی نوٹس میں تحریر کیا ’’کردار اور صحت مند خیالات کو اہمیت دے کر ہم اس بری اور گناہ گار دنیا کو جنت میں تبدیل کرسکتے ہیں‘‘۔
(اقبال: Stray Reflections مطبوعہ اقبال اکیڈمی صفحہ 74)
اقبال نے منفرد انداز میں اپنے زمانے کے سماج پر طنز کی جس کے لوگ باتیں تو بہت کرتے تھے مگر عمل میں بہت پیچھے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سو سال بعد بھی آج کا سماج اسی معیار پر کھڑا ہے۔

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا

یہ عجز اور انکساری اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے مجموعی طور پر قابلِ رشک کردار کا مظاہرہ کیا اور اُصولوں کی خاطر ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرتے رہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے عظیم والد کے ذاتی کردار کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں ’’اقبال کی آمدنی کے ذرائع محدود تھے۔ دولت اکٹھی کرنا یا اپنی زندگی کو آسائشوں کے ذریعے آرام دہ بنانا اُن کی فطرت کے خلاف تھا۔ وکالت میں کام بھی اتنا لیتے تھے جس کے معاوضہ سے اُن کے ماہ دو ماہ کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ مہینے میں کم از کم پانچ سو روپے تک کا کام مل جائے تو مزید نہ لیتے تھے۔ اگر کوئی مؤکل آپہنچتا تو اُسے اگلے ماہ آنے کو کہتے۔ پیشۂ وکالت کے اخلاقی پہلو کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے۔ اقبال نے عطیہ فیضی کے نام ایک خط میں تحریر کیا ’’میں ایک سیدھی سادی دیانتدارانہ زندگی بسر کرتا ہوں۔ میرے دل اور زبان کے درمیان پوری موافقت ہے۔ لوگ منافقت کی مدح و ثنا کرتے ہیں۔ اگر شہرت، عزت اور ستائش حاصل کرنے کے لیے مجھے منافقت اختیار کرنی پڑے تو میں گم نامی اور کسمپری کی حالت میں مرنا زیادہ پسند کروں گا۔

عوام کو جن کی گردن پرراون کی طرح کئی سر ہیں، اُن لوگوں کا احترام کرنے دو جو مذہب اور اخلاق کے برعکس عوام کے جھوٹے اور بے بنیاد نظریات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ میں ان کے رسوم و روایات کے آگے سرجھکانے اور ذہنِ انسانی کی آزادی کو دبانے سے قاصر ہوں‘‘۔
(عطیہ بیگم: اقبال(انگریزی)صفحہ 39)
اقبال نے ’’مستیٔ کردار کے عنوان سے ایک نظم تحریر کی۔

صوفی کی طریقت میں فقط مستیٔ احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستیٔ گفتار

شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست نہ خوابیدہ نہ بیدار

وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی ٔ کردار

اقبال نے انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاس اپریل 1911ء میں اپنی نظم ’’شکوہ‘‘ پڑھی۔ اُن کے مداح خواجہ عبدالصمد ککڑو رئیس بارہ مولا نے خوش ہوکر اپنا قیمتی دوشالہ اقبال کے کندھوں پر ڈال دیا۔ اقبال نے یہ دو شالہ انجمن کے منتظمین کو دے دیا جو اسی اجلاس میں نیلام کیا گیا اور بولی کی رقم انجمن کے کھاتے میں جمع کرا دی گئی۔
(فقیر سید وحیدالدین: روزگار فقیر جلد اول صفحہ123) یوں محسوس ہوتا ہے کہ شیطان مسلمانوں کو بے عمل رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور آج بھی عالمِ اسلام کردار کے بحران سے گزررہا ہے۔ مسلمان عام طور پر کوشش کرنے کی بجائے تقدیر پر انحصار کرنے کا آسرا ڈھونڈتے ہیں حالانکہ قرآن عمل اور کوشش کرنے پر زور دیتا ہے جیسا کہ اقبال نے کہا۔

خبر نہیں کیا ہے نام اسکا خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

جو قومیں عمل اور کردار میں پختہ ہوتی ہیں دنیا میں وہی ترقی کرتی ہیں۔ مسلمان قوم کو اگر ترقی کرنی ہے تو ہر مسلمان کو اپنا کردار پختہ بنانا ہوگا۔ افراد مثالی ہوں گے تو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے گا۔ علم کے ذریعے انسان کو حقیقت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اور عمل کے ذریعے انسان حقیقت کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ علم اور عمل دونوں مل کر کائنات کو تسخیر کرلیتے ہیں۔

ندرت فکر و عمل کیا شے ہے؟ ذوقِ انقلاب
ندرت فکر و عمل کیا شے ہے؟ ملت کا شباب

ندرت فکر و عمل سے معجزاتِ زندگی
ندرت فکر و عمل سے سنگِ خارا لعلِ تاب

اقبال غیر منظم اور بے سلیقہ عمل کے قائل نہیں۔ ایسا عمل آخر کار خود اپنی موت کا موجب بن جاتا ہے۔ عمل کسی قانون کے تابع ہونا چاہیئے۔ اس کی رہنمائی کے لیے کسی اخلاقی ضابطہ کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ فرد اور سوسائٹی دونوں کے لیے مفید ہوسکے۔

آزادیٔ افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

اپنے بھی خفا مجھ سے بے گانے بھی ناخوش
میں ہر زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

Allama Iqbal Open University Allama Iqbal Allama Iqbal Pakistan Army Higher Education Commission, Pakistan

02/01/2026


نئے سال پر اقبال کا پیغام:

علامہ اقبال کا سالِ نو کا یہ پیغام یکم جنوری ۱۹۳۸ء کو آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن لاہور سے نشر ہوا۔ اقبال نے اپنے نشری پیغام میں فرمایا:

"عصر حاضر کو اپنے علوم و فنون کی ترقی اور سائنس کی بیمثال ایجادات پر فخر و ناز ہے۔ بیشک اسے اس فخر و ناز کا استحقاق حاصل ہے۔ آج کل زمان و مکان کے فاصلے سمٹ رہے ہیں، اور انسان فطرت کے رازوں کو بے نقاب کرنے اور فطرت کی پوشیدہ طاقتوں کو اپنے تصرف میں لانے کے لیے حیران کن کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ لیکن ان تمام ایجادات و ترقیات کے باوجود امپریلیزم کا غرور و تکبر اور ظلم و استبداد جس نے اپنا چہرہ جمہوریت، نیشنلزم، کمیونزم، فاشزم اور خدا جانے کس کس پردے میں چھپایا ہوا ہے دنیائے ارضی میں ہر طرف روح حریت اور انسان کے شرف و عزت و وقار کو اپنے پاؤں تلے اس طرح روندا اور کچل ڈالا ہے کہ تاریخ انسانی کے تاریک ترین ایام میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ نام نہاد سیاسی مدبر جنہیں انسانوں کی قیادت اور حکومت سونپی گئی، وہ خونخواری اور ظلم و استبداد کے خوفناک دیو ثابت ہوئے۔ جن حکمرانوں کا یہ فرض تھا کہ وہ ان نظریات کی پاسداری کرتے، اعلیٰ انسانی قدروں کا تحفظ کرتے اور ان کی نشوو نما کر کے انسانوں پر انسانوں کے ظلم و ستم کا سد باب کرتے، اور انسانیت کی اخلاقی اور ذہنی سطح کو بلند سے بلند تر کرتے، وہ اس کی بجائے اپنی ہوس جوع الارض اور امپریل مقبوضات کی خاطر لاکھوں انسانوں کا خون بہاتے اور کروڑوں انسانوں کو محض اس لیے غلام بناتے ہیں کہ صرف اپنے مخصوص گروہ کی حرص اور طمع کی پیاس بجھائیں۔ اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ کمزور اقوام کو غلام بنانے اور اپنی نو آبادیات بنانے کے بعد یہ ظالم ان کے دین و مذہب پر ڈاکا ڈالتے، ان کی ثقافتی روایات اور علم و ادب کو پامال کرتے ہیں، اور پھر یہ غاصب ان کے اندر تفرقات کے بیج بوتے ہیں تاکہ وہ آپس میں لڑیں اور ایک دوسرے کا خون بہائیں اور غلامی و محکومی کے خواب آور نشے میں اس طرح دھت ہو جائیں کہ امپریلزم کی جونکیں بلا تکلف ان کا خون چوستی رہیں۔
جب میں اس برس پر نگاہ ڈال ڈالتا ہوں جو گزر گیا، اور پھر جب میں دنیا پر نظر کرتا ہوں جو سال نو کی خوشیاں منانے میں مگن ہے تو عجب بھیانک منظر سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر میں، یہ ابی سینیا ہو یا فلسطین، سپین ہو یا چین، انسانی آبادیوں پر ایک طرح کی مصیبت چھائی ہوئی نظر آتی ہے، اور لاکھوں انسان بے رحمی سے بے دریغ مارے جا رہے ہیں۔ تباہی و بربادی کے مشینی آلاتِ حرب جنہیں سائنس نے ایجاد کیا، انسان کی ثقافتی و تمدنی فتوحات کے عظیم الشان نشانات کو تباہ و برباد کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جو حکومتیں آگ اور خون کے اس ہولناک ڈرامے میں خود ملوث نہیں ہیں وہ کمزور اقوام کا لہو اقتصادی حربوں کے ذریعے چوس رہی ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے قیامت کا دن اس کرہ ارضی پر آگیا ہے جس میں ہر کوئی اپنی اپنی چمڑی بچانے کی فکر میں مبتلا ہو گیا ہے۔
کیا دنیا بھر کے اہل فکر و نظر گونگے بہرے ہو بیٹھے ہیں؟ کیا ان تمام علمی ترقیات اور تہذیب و تمدن کے ارتقا کا انجام قریب آگیا ہے؟ وہ پوچھتے ہیں باہمی نفرت و عداوت کے سبب کیا آدمی آدمی کو تباہ و برباد کر دے گا؟ اور کیا اس کرہ ارض پر انسانی بود و باش کو نا ممکن بنا دیا جائے گا؟
یاد رکھیے، انسان اس دنیا میں صرف ایک دوسرے کو عزت و احترام کا مقام دے کر ہی باقی رہ سکتا ہے۔ ورنہ یہ دنیا خونخوار شکاری درندوں کا میدانِ حرب بن کر رہ جائے گی، تاوقتیکہ ساری دنیا کے اہل علم و فضل اپنی پوری تعلیمی سعی و کاوش سے انسانوں میں انسانوں کے لیے جذبہ عزت و احترام پیدا نہیں کریں گے، بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ اسپین کے لوگ، ہر چند کہ وہ ایک ہی نسل، ایک ہی قوم ایک ہی زبان ایک ہی مذہب کے رشتے میں گندھے ہوئے ہیں، مگر وہ ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں، اور اپنے ہی کلچر اور تہذیب و تمدن کو اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہے ہیں، محض اپنے اقتصادی مسلک میں اختلاف کے سبب؟
اس ایک واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ قومی اتحاد بھی کچھ زیادہ دیر پا قوت نہیں رکھتا۔ صرف ایک ہی اتحاد قابل اعتماد ہے اور وہ اتحاد ہے، انسانی بھائی چارے کا اتحاد جو رنگ، نسل، زبان، قومیت وغیرہ سے بالاتر ہے۔ جب تک یہ نام نہاد جمہوریت، یہ بد بخت نیشنلزم اور یہ کم ظرف امپریلزم برباد نہیں ہو جاتے، جب تک انسان اپنے عمل سے یہ ظاہر نہیں کر دیتے کہ ان کا یقین و ایمان یہ ہے کہ تمام دنیائے انسانی ایک خدا کا کنبہ ہے، اور جب تک رنگ، نسل، زبان اور جغرافیائی قومیتوں کا احساس تفاخر مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا وہ اس کرہ ارض پر مطمئن ہو کر پُر مسرت زندگی بسر نہیں کر سکیں گے، اور حریت، مساوات اور اخوت (بھائی چارے) کے خوبصورت الفاظ اور دلفریب نظریات شرمندہ معنی نہیں ہو سکیں گے۔
لہذا آئیے، نئے سال کا آغاز اس دعا کے ساتھ کریں کہ اے اللہ رب العالمین! ان لوگوں کو جذبہ انسانیت سے سرفراز فرما جو اقتدار، قوت و حشمت کے مقام پر فائز ہیں، اور انہیں انسانیت پروری اور بنی نوع انسان کی بھلائی کا راستہ دکھا۔ آمین!"

IQBAL'S MESSAGE ON NEW YEAR:

New year's message of Iqbal broadcasted from the Lahore Station of All-India Radio on the First January, 1938, as below:

"The modern age prides itself on its progress in knowledge and its matchless scientific developments. No doubt, the pride is justified. To-day space and time are being annihilated and man is achieving amazing successes in unveiling the secrets of nature and harnessing its forces to his own service. But in spite of all these developments, the tyranny of imperialism struts abroad, covering its face in the masks of Democracy, Nationalism, Communism, Fascism and heaven knows what else besides. Under these masks, in every corner of the earth, the spirit of freedom and the dignity of man are being trampled underfoot in a way of which not even the darkest period of human history presents a parallel. The so called statesmen to whom government and leadership of men was entrusted have proved demons of bloodshed, tyranny and oppression. The rulers whose duty it was to protect and cherish those ideals which go to form a higher humanity, to prevent man's oppression of man and to elevate the moral and intellectual level of mankind, have, in their hunger for dominion and imperial possessions, shed the blood of millions and reduced millions to servitude simply in order to pander to the greed and avarice of their own particular groups. After subjugating and establishing their dominion over weaker peoples, they have robbed them of their religions, their morals, of their cultural traditions and their literatures. Then they sowed divisions among them that they should shed one another's blood and to sleep under the op**te of serfdom, so that the leech of imperialism might go on sucking their blood without interruption.
As I look back on the year that has passed and as I look at the world in the midst of the New Year's rejoicings, it may be Abyssinia or Palestine, Spain or China, the same misery prevails in every corner of man's earthly home, and hundreds of thousands of men are being butchered mercilessly. Engines of destruction created by science are wiping out the great landmarks of man's cultural achievements. The governments which are not themselves engaged in this drama of fire and blood are sucking the blood of the weaker peoples economically. It is as if the day of doom had come upon the earth, in which each looks after the safety of his own skin, and in which no voice of human sympathy or fellowship is audible.
The world's thinkers are stricken dumb. Is this going to be the end of all this progress and evolution of civilisation, they ask, that men should destroy one another in mutual hatred and make human habitation impossible on this earth? Remember, man can be maintained on this earth only by honouring mankind, and this world will remain a battle ground of ferocious beasts of prey unless and until the educational forces of the whole world are directed to inculcating in man respect for mankind. Do you not see that the people of Spain, though they have the same common bond of one race, one nationality, one language and one religion, are cutting one another's throats and destroying their culture and civilisation by their own hands owing to a difference in their economic creed? This one event shows clearly that national unity too is not a very durable force. Only one unity is dependable, and that unity is the brotherhood of man, which is above race, nationality, colour or language. So long as this so-called democracy, this accursed nationalism and this degraded imperialism are not shattered, so long as men do not demonstrate by their actions that they believe that the whole world is the family of God, so long as distinctions of race, colour and geographical nationalities are not wiped out completely, they will never be able to lead a happy and contented life and the beautiful ideals of liberty, equality and fraternity will never materialise.
Let us therefore, begin the New Year with the prayer that God Almighty may grant humanity to those who are in places of power and government and teach them to cherish mankind."

28/12/2025

علامہ اقبال کی ٹیپو سلطان کے مزار پر حاضری

١١ جنوری ١٩٢٩ء کو ریاست میسور کی طرف سے اُن کے لیے سلطان ٹیپو کے قلعہ سرنگا پٹنم جانے اور وہاں قریب ہی سلطان ٹیپو کے مزار کی زیارت کا پروگرام تھا. سو صبح تقریباً نو بجے سب موٹر کاروں میں سوار ہو گئے. اس قافلے کی ایک موٹر کار میں میسور کے مشہور و معروف درباری موسیقار علی جان اپنے سازندوں سمیت موجود تھے جنہیں مہاراجہ میسور نے علامہ اقبال کی صحبت میں رہنے کے لیے خاص طور پر بھیجا تھا.

مقبرے کے دروازے پر ریاست کی طرف سے ہر وقت نوبت بجتی رہتی ہے. روضہ سیاہ سنگِ مرمر یا سنگِ موسیٰ سے تعمیر کیا گیا ہے. علامہ اقبال بارہ بجے کے قریب سلطان ٹیپو کے مقبرے یعنی گنبدِ سلطانی پر پہنچے. علامہ اقبال اپنے احباب کے ساتھ روضہ سلطانی میں نہایت اشتیاق اور ادب کے ساتھ داخل ہوئے. مزار پر سرخ غلاف چڑھا ہوا تھا. فاتحہ کے بعد علامہ اقبال نے کہا کہ میں یہاں تخلیہ میں مراقبہ کرنا چاہتا ہوں جب تک میں باہر نہ آ جاؤں، کوئی مجھے آواز نہ دے. سب باہر آ گئے اور انہوں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا.

علامہ اقبال نے مزار کے اندر داخل ہوتے ہی قرآن مجید کی وہ آیت تلاوت فرمائی جو شہداء کے ضمن میں ہے (جو اللہ کے راستے میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں. مگر لوگوں کو شعور نہیں ہے). گنبدِ سلطانی میں تین قبریں ہیں. سیاہ غلاف والی قبر حیدر علی، والدِ سلطان ٹیپو کی ہے. اور دائیں طرف دو قبروں میں ایک سنہری قبر فاطمہ، والدہِ سلطان ٹیپو کی اور دوسری قبر جس پر سرخ غلاف ہے سلطان ٹیپو شہید کی ہے. سرخ رنگ دراصل شہید کی نشانی ہے. سلطان ٹیپو نے خود اپنے والدین کو یہاں دفن کیا اور یہ مقبرہ تعمیر کرایا تھا. مزار کے اندر کی فضاء ایسی ہے کہ انسان پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے. علامہ اقبال نے جس عقیدت اور خلوص سے روضہ کے اندر فاتحہ خوانی کی، اُسے بیان نہیں کیا جا سکتا. روضہ کے اندر چاروں طرف دیواروں اور تعویذوں پر کئی فارسی اشعار شہداء کی شان میں کندہ ہیں. سلطان ٹیپو ١٢١٣ھ بمطابق ١٧٩٩ء میں شہید ہوئے اور اُن کی تاریخِ شہادت "شمشیر گم شد" کے الفاظ سے برآمد ہوتی ہے. یہی تاریخ اُن کے بیشتر سوانح نگاروں نے بھی تحریر کی ہے. روضے سے باقی لوگ تو باہر چلے گئے لیکن تنہا اقبال، سلطان شہید کی تربت کے قریب آنکھیں بند کیے دیر تک کھڑے رہے اور سب سے آخر میں باہر نکلے. عبداللہ چغتائی لکھتے ہیں کہ میں نے جو منظر اقبال کے یہاں دیکھا اُسے الفاظ میں تو ڈھالنا ممکن نہیں. پھر بھی اس پر ایک الگ مضمون بعنوان "شمشیر گم شد" لاہور واپس آ کر تحریر کیا جو "نیرنگِ خیال" میں طبع ہوا.

روضہ کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد ہے. اس کے صحن میں سب لوگ جا کر بیٹھ گئے اور علی جان نے نہایت سوز کے عالم میں اقبال کا اردو اور فارسی کلام گانا شروع کر دیا. اقبال کے آنسوؤں کا سلسلہ نہ تھمتا تھا اور حاضرین پر بھی رقت طاری تھی. علی جان یہ کیفیت دیکھ کر گھبرا گئے اور گاتے گاتے رک گئے. اقبال نے بڑے اضطراب کے عالم میں کہا : رک کیوں گئے جاری رکھو. سو علی جان گاتے رہے اور اقبال آنسو بہاتے رہے. جب وہاں سے رخصت ہوئے تو میسور کے مشہور تاجر سیٹھ محمد ابا (عباس) نے، جو اُن کے ساتھ تھے، پوچھا کہ سلطان شہید نے آپ کو کوئی پیغام دیا. اقبال نے جواب دیا کہ اُن کی معیت میں میرا ایک لمحہ بھی بیکار نہیں گزرا. پھر فرمایا کہ ایک پیغام یہ ملا ہے :

در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست
ہمچو مرداں جاں سپردن زندگیست

یہ شعر اُس واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جب سلطان ٹیپو کو شہادت سے کچھ دیر قبل کسی مشیر نے رائے دی تھی کہ انگریزوں سے مصالحت کر لی جائے، اور انہوں نے فوراً جواب دیا تھا کہ "گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے".
بعد ازاں رستے میں چار اور شعر بھی موزوں ہو گئے جو اقبال کے انتہائی ذاتی تاثرات پر مبنی تھے اور اُن کے کسی مطبوعہ کلام میں شامل نہیں :

آتشے در دل دگر بر کردہ ام
داستانے از دکن آوردہ ام
در کنارم خنجرِ آئینہ فام
می کشم اورا بتدریج از نیام
نکتہ گویم ز سلطانِ شہید
زاں کہ ترسم تلخ گردو روزِ عید
پیشتر رفتم کہ بوسم خاکِ او
تاشنیدم از مزارِ پاکِ او

در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست
ہمچو مرداں جاں سپردن زندگیست

ترجمہ : یعنی میں دکن سے ایک داستان اپنے ساتھ لایا ہوں، جس نے میرے دل میں نئی حرارت پیدا کر دی ہے.
میرے پہلو میں آئینے جیسا ایک چمکدار خنجر ہے جسے میں آہستہ آہستہ نیام سے باہر نکال رہا ہوں.
سلطان شہید کی طرف سے مجھے ایک نکتہ ملا ہے. جسے میں بیان کیے دیتا ہوں، گو مجھے خوف ہے کہ اسے سن کر کہیں تیری عید کی خوشیوں میں تلخی کا رنگ نہ بھر جائے.
میں جب اُن کی خاک کو بوسہ دینے کی غرض سے وہاں تک پہنچا تو مزارِ پاک سے ندا آئی :
اگر جہاں میں مردوں کی طرح زندہ رہنا ممکن نہ ہو تو مردانہ وار جان قربان کر دینے ہی میں زندگی ہے.

حقیقت یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں ٹیپو سلطان شہید کو صحیح معنوں میں اقبال ہی نے تلاش کیا اور اس آتشِ رفتہ کا سراغ لگا کر مسلمانوں میں اسلام کے لیے تڑپ پیدا کی. اقبال نے اُس شہید کی شخصیت کے بارے میں ایسے اعلیٰ و ارفع افکار کا اظہار کیا ہے کہ اُس کی موت پر زندگی رشک کرتی ہے.

اقبال ٹیپو سلطان کو شہیدانِ محبت کا امام قرار دیتے ہیں اور اُنہیں اسلامی ممالک کی عزت و آبرو سمجھتے ہیں. اُن کے نزدیک سلطان ٹیپو شہید کا نام چاند اور سورج سے بھی زیادہ روشن اور اُن کی قبر کی مٹی ہم زندہ کہلانے والوں سے کہیں زیادہ زندہ ہے.

اقبال کہتے ہیں : "عشق ایک راز جسے سلطان ٹیپو شہید نے فاش کیا. کسی کو کیا معلوم کہ اُس نے کس شوق سے راہِ حق میں اپنی جان دی. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضانِ نظر سے سلطان شہید کا فقر جذب امام حسین رضی اللہ عنہ کا وارث بن گیا. وہ اگرچہ دنیائے فانی سے چلا گیا لیکن اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا."

سلطان شہید، اقبال سے دریافت کرتا ہے کہ :

زائر شہر و دیارم بودہ
چشمِ خود را بر مزارم سودہ
اے شناسائے حدودِ کائنات
در دکن دیدی ز آثارِ حیات ؟
(جاوید نامہ)
ترجمہ : تو نے میرے وطن اور شہر کو دیکھا ہے اور میری قبر کی خاک کو آنکھوں سے لگایا ہے.
کیا تو نے دکن میں زندگی کے کچھ آثار بھی دیکھے ہیں.

زندگی را چیست رسم و دین و کیش
یک دم شیری بہ از صد سالِ میش

ترجمہ : زندگی کے لیے رسم و دین اور مسلک کیا چیز ہے؟ شیر کا ایک پل (زندہ رہنا) بھیڑ کے سو سال (زندہ رہنے) سے بہتر ہے.

یہ فقرہ سلطان ٹیپو نے اپنی شہادت کے وقت کہا تھا یعنی شیر بن کر رہو اور شیر ہی کی طرح مرو. یہی حقیقی زندگی ہے.

اسفارِ اقبال سے اقتباس

Adresse

Twechte 3
Göttingen
37079

Telefon

+4955133297

Webseite

Benachrichtigungen

Lassen Sie sich von uns eine E-Mail senden und seien Sie der erste der Neuigkeiten und Aktionen von Allma Muhammad Iqbal erfährt. Ihre E-Mail-Adresse wird nicht für andere Zwecke verwendet und Sie können sich jederzeit abmelden.

Teilen