04/08/2026
1983 میں بیلجیئم کی ایک کوہ پیمائی ٹیم دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک راکاپوشی سر کرنے پاکستان آئی۔ دورانِ مہم ٹیم کا ایک رکن پھسل کر شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی کو تقریباً 6,000 میٹر بلند کیمپ نمبر 5 تک پہنچایا گیا، جہاں سے فوری امداد کے لیے پاک فوج کے آرمی ایوی ایشن یونٹ سے رابطہ کیا گیا۔
اس وقت کیپٹن ہاشم خان اور اُن کے ساتھی میجر اعظم کو الویٹ III ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو مشن سونپا گیا۔ اتنی زیادہ بلندی پر ہیلی کاپٹر اڑانا انتہائی خطرناک تھا، اس لیے وزن کم کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے دروازے، نشستیں، اسکیز اور اضافی ایندھن بھی نکال دیا گیا۔ آخرکار صرف کیپٹن ہاشم خان زخمی کو بچانے کے لیے روانہ ہوئے۔
موقع پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ کیمپ متوقع بلندی سے بھی زیادہ، تقریباً 6,500 میٹر (22,000 فٹ) پر واقع ہے، جہاں اس سے پہلے کبھی بھی الویٹ III ہیلی کاپٹر نہیں پہنچا تھا۔ لینڈنگ کی کوئی جگہ موجود نہیں تھی، اس لیے کیپٹن ہاشم خان نے ہیلی کاپٹر کو فضا میں مستحکم رکھتے ہوئے تنہا زخمی کو اندر منتقل کیا۔ واپسی کے دوران ہیلی کاپٹر کے ایندھن کی وارننگ لائٹ مسلسل جل رہی تھی، مگر وہ صرف 14 منٹ میں زخمی کو بحفاظت بیس تک لے آئے۔ لینڈنگ کے وقت ٹینک میں صرف تقریباً ایک منٹ کا ایندھن باقی تھا۔
اس غیر معمولی ریسکیو نے الویٹ III ہیلی کاپٹر کی بلند ترین پرواز کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا، جو اس سے پہلے تنزانیہ کے ماؤنٹ کلیمنجارو پر تقریباً 19,500 فٹ تھا۔ کیپٹن ہاشم خان نے تقریباً 22,000 فٹ کی بلندی پر یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔
اس بے مثال بہادری کے اعتراف میں بیلجیئم کے بادشاہ نے کیپٹن ہاشم خان کو آرڈر آف لیوپولڈ (Order of Leopold) سے نوازا، جو بیلجیئم کی جانب سے غیر ملکی شخصیات کو دیا جانے والا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ بعد ازاں انہیں ایک اور اعزاز Aérospatiale Award بھی دیا گیا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے وقت وہ بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز تھے۔
فوجی خدمات کے علاوہ بریگیڈیئر ہاشم خان نے اداکاری کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے مقبول ڈراموں الفا براوو چارلی اور سنہرے دن میں یادگار کردار ادا کیے۔ ان کی زندگی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن کی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔