21/10/2026
# بازارِ حسن سے بازارِ انصاف تک
# # وہاں جسموں کے سودے ہوتے تھے، یہاں انصاف اور انسانیت کے سودے ہونے کا سوال ہے!
**ایک درد مند سائل کی فریاد — ملیر کے نظامِ انصاف کے نام**
بازارِ حسن میں کبھی جسموں کی قیمت لگتی تھی، مگر انسان کی روح، ضمیر اور غیرت کا فیصلہ ہر شخص اپنے اندر کرتا تھا۔ آج جب نگاہ بازارِ انصاف کی طرف اٹھتی ہے تو دل ایک تلخ سوال پوچھتا ہے:
**کیا ہم اس مقام پر آ پہنچے ہیں جہاں جسموں کے نہیں، ضمیروں کے سودوں کا خوف پیدا ہو رہا ہے؟ جہاں انصاف کی تلاش میں آنے والا انسان اپنے حق کے بجائے اپنی بے بسی کا مقدمہ لڑنے پر مجبور ہو جائے؟**
یہ تحریر کسی عدالت کی توہین کے لیے نہیں، بلکہ اس سوال کو زندہ رکھنے کے لیے ہے کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے کو آخر انصاف کہاں سے ملے گا، اگر اس کی فریاد ہی اس کی سب سے بڑی آزمائش بن جائے؟
# # # ملیر! تیرے ایوانِ انصاف سے یہ سوال ہے
ملیر کی عدالتوں میں ایک سائل کی حیثیت سے جو حالات اور تجربات میں نے محسوس کیے، انہوں نے میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ میں نے اپنے مقدمات میں ایسے قانونی اعتراضات اٹھائے، ایسے ثبوت پیش کرنے کا مؤقف اختیار کیا اور ایسے سوالات سامنے رکھے جن کے بارے میں میرا مطالبہ ہے کہ انہیں قانون اور ریکارڈ کی روشنی میں غیر جانب داری سے پرکھا جائے۔
مگر جب ایک فریق یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی درخواستیں سنی نہیں جا رہیں، اس کے اعتراضات کا مؤثر جواب نہیں مل رہا اور متنازع کارروائی کو مسلسل تحفظ حاصل ہے، تو اس کے دل میں مایوسی جنم لیتی ہے۔
یہ مایوسی صرف ایک فرد کی نہیں رہتی؛ یہ پورے نظامِ انصاف پر اعتماد کا سوال بن جاتی ہے۔
**انصاف صرف فیصلہ لکھ دینے کا نام نہیں؛ انصاف یہ بھی ہے کہ حقائق سنے جائیں، ثبوت پرکھے جائیں، اعتراضات کا جواب دیا جائے اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔**
# # # سول سوٹ نمبر 4208 — ایک مقدمہ، کئی سنگین سوالات
سول سوٹ نمبر **4208** کے حوالے سے میرا مؤقف واضح ہے کہ مدعی کی جانب سے دائر کردہ دعویٰ بے بنیاد اور بوگس ہے۔ میرے مطابق اس دعوے کے خلاف ایسے ثبوت اور قانونی اعتراضات پیش کیے گئے ہیں جن کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
اس مقدمے کی کارروائی جناب کلم اللہ کلوڑ کے سامنے ہے۔ میرے تحفظات یہ ہیں کہ پیش کردہ اعتراضات اور ثبوتوں کے باوجود مجھے وہ قانونی داد رسی حاصل نہیں ہو رہی جس کی مجھے توقع ہے۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جس دعوے کو میں ریکارڈ کی بنیاد پر غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، اسے مطلوبہ قانونی جانچ کے بغیر تحفظ مل رہا ہے۔
میں یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی دعوے کے خلاف قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہوں تو ان کا فیصلہ قانون کے مطابق کیوں نہ کیا جائے؟ اگر دعویٰ واقعی بے بنیاد ہے تو اس کا تعین عدالتی ریکارڈ اور قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فریق کے اثرورسوخ یا محض اس کے دعویٰ دائر کرنے سے۔
میرا مطالبہ کسی کے خلاف پہلے سے فیصلہ صادر کرنا نہیں؛ میرا مطالبہ یہ ہے کہ میرے اعتراضات کو سنا جائے، ثبوتوں کا جائزہ لیا جائے اور وجوہات کے ساتھ قانونی فیصلہ کیا جائے۔
کیونکہ **جب ثبوتوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک سائل خود کو بے بس محسوس کرے، تو سب سے پہلے نظام کو اپنے طریقۂ کار پر نظر ڈالنی چاہیے۔**
# # # سول ریوژن نمبر 82/2026 — نظرِ ثانی یا انصاف کی ایک اور آزمائش؟
سول ریوژن نمبر **82/2026**، جو میرے علم کے مطابق جناب امجد سومرو، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج، ملیر، کے سامنے ہے، بھی میرے تحفظات کا حصہ ہے۔
میرے نقطۂ نظر سے اس مقدمے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ متعلقہ درخواستوں اور اعتراضات کو ان کی قانونی نوعیت کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے یا نہیں۔ اگر میرے مؤقف کے مطابق سول سوٹ میں سنجیدہ قانونی نقائص موجود ہیں، تو ان کا جائزہ متعلقہ قانونی طریقۂ کار کے تحت لیا جانا چاہیے۔
میری شکایت یہ ہے کہ مجھے کارروائی کے نتیجے میں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اصل اعتراضات کے مؤثر ازالے کے بجائے متنازع صورتِ حال برقرار ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں متعلقہ عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر واضح کیا جائے کہ کون سا قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے اور درخواستوں پر فیصلہ کس بنیاد پر ہوگا۔
میں کسی عدالتی افسر کی نیت کے بارے میں بغیر ثبوت کوئی حتمی فیصلہ نہیں سناتا؛ لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتا ہوں کہ **کیا ایک سائل کو اپنے قانونی اعتراضات کے فیصلے کے لیے غیر ضروری بے یقینی میں رکھا جانا چاہیے؟**
عدالت کا وقار اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب ہر کارروائی قانون کے مطابق ہو، ہر اعتراض کو اس کی قانونی حیثیت کے مطابق دیکھا جائے اور ہر حکم میں عدالتی اطمینان کی بنیاد واضح ہو۔
# # # قبضہ مافیا کے خلاف آواز یا ایک بے بس سائل کی فریاد؟
میرا مؤقف ہے کہ زیرِ بحث تنازع میں مخالف فریق کے دعوے کے خلاف اہم ثبوت اور اعتراضات موجود ہیں، اور مجھے خدشہ ہے کہ اس کارروائی سے ایسے عناصر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جن کے دعوے اور قبضے کی قانونی حیثیت متنازع ہے۔
اگر کسی فریق کا دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے، یا کسی زمین پر قبضہ غیر قانونی قرار پاتا ہے، تو قانون کے مطابق اس کے نتائج سامنے آنے چاہییں۔ لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ تمام فریقوں کو سنا جائے، دستاویزات کی تصدیق ہو اور مجاز عدالت ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔
**قبضہ، اگر غیر قانونی ہو، تو اسے کسی عدالتی کارروائی کی آڑ میں جائز نہیں بنایا جا سکتا؛ اور الزام، اگر غیر ثابت ہو، تو اسے حقیقت بنا کر کسی کے خلاف استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔**
میری آواز اسی اصول کے لیے ہے کہ زمین کا تنازع ہو یا کسی حق کی جنگ، فیصلہ قانون اور ثبوت پر ہو، نہ کہ طاقت کے تاثر پر۔
ارشاد علی شر — بار کی قیادت اور ایک موکل کی مایوسی
ملیر بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب ارشاد علی شر، جو میرے ان دونوں مقدمات میں میرے وکیل بھی ہیں، کے حوالے سے بھی میرے دل میں ایک احساسِ مایوسی موجود ہے۔ میں نے ان حالات میں انہیں اپنے مؤقف کے مؤثر ازالے کے حوالے سے بے بس محسوس کیا ہے۔
یہ ذکر ان کی ذات کی توہین کے لیے نہیں، بلکہ اس کیفیت کی ترجمانی کے لیے ہے جس سے ایک موکل گزرتا ہے جب وہ اپنے وکیل، بار کی قیادت اور عدالتی نظام سے امید وابستہ کرنے کے باوجود اپنے آپ کو غیر مطمئن پاتا ہے۔
وکیل موکل کی آواز ہوتا ہے، بار قانونی برادری کی نمائندہ آواز ہوتی ہے، اور عدالت قانون کے مطابق داد رسی کا فورم ہوتی ہے۔ جب ان تینوں کے درمیان موکل کو اپنی فریاد کے مؤثر ازالے کی امید کم ہوتی محسوس ہو، تو اس کے لیے یہ ایک نہایت کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے مقدمات میں دستیاب قانونی راستوں، ثبوتوں اور اعتراضات کو پوری سنجیدگی سے دیکھا جائے، تاکہ کسی ذاتی مایوسی کے بجائے قانون کے مطابق نتیجہ سامنے آئے۔
# # # کیا واقعی ضمیر فروخت ہو رہے ہیں؟
بازارِ حسن کا استعارہ آسان ہے، مگر بازارِ انصاف کے بارے میں ایسا سوال اٹھانا انتہائی سنگین بات ہے۔ کسی جج، وکیل یا عدالتی افسر پر رشوت لینے یا بکنے کا الزام صرف احساس، شبہے یا مخالف فریق سے اختلاف کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے لیے قابلِ اعتماد شواہد اور مجاز فورم کی جانچ ضروری ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب انصاف کے بارے میں سنگین شکوک پیدا ہوں تو ان کا جواب محض خاموشی نہیں ہونا چاہیے۔ شفافیت، وجوہات پر مبنی احکامات، مؤثر شکایتی طریقۂ کار اور قانون کے مطابق احتساب ہی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔
میرا سوال یہ نہیں کہ کسی کو بغیر ثبوت مجرم قرار دے دیا جائے؛ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی سائل کے پاس ثبوت، دستاویزات اور قانونی اعتراضات موجود ہیں تو انہیں پوری توجہ سے کیوں نہ پرکھا جائے؟
**انصاف کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سامنے والا شخص طاقت ور ہو، معاملہ پیچیدہ ہو اور سائل کمزور محسوس کر رہا ہو۔**
# # # میرا مطالبہ: انتقام نہیں، شفاف انصاف
میں متعلقہ عدالتی حکام، مجاز شکایتی فورمز اور ملیر بار ایسوسی ایشن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ:
1. سول سوٹ نمبر/2025 4208 میں میرے پیش کردہ ثبوتوں اور اعتراضات کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے۔
2. سول ریوژن نمبر 82/2026 میں درخواستوں اور اعتراضات کو متعلقہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق نمٹایا جائے۔
3. جہاں کسی عدالتی یا انتظامی بے ضابطگی کے بارے میں قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہوں، وہاں مجاز فورم کے ذریعے غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے۔
4. زمین کے تنازع میں دعووں، دستاویزات اور قبضے کی قانونی حیثیت کا تعین ریکارڈ اور قانون کی بنیاد پر ہو۔
5. ہر فریق کو منصفانہ سماعت، غیر جانب دارانہ کارروائی اور وجوہات پر مبنی حکم حاصل ہو۔
میرا مقصد کسی کی تذلیل نہیں، بلکہ اس یقین کو مضبوط کرنا ہے کہ انصاف کے دروازے ہر شہری کے لیے کھلے ہیں۔
# # # آخری سوال — بازارِ حسن سے بازارِ انصاف تک
بازارِ حسن میں جسم کی قیمت لگنے کا تصور انسان کو دکھ دیتا ہے، مگر بازارِ انصاف میں ضمیر فروشی کا تصور اس سے کہیں زیادہ خوف ناک ہے؛ کیونکہ جسم کا سودا ایک انسان کو زخمی کرتا ہے، جبکہ انصاف پر اعتماد کا زوال پورے معاشرے کو زخمی کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں اپنے مقدمات کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو خاموشی میں دفن نہیں کرنا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ ریکارڈ دیکھا جائے، اعتراضات سنے جائیں، ثبوتوں کو پرکھا جائے اور قانون کے مطابق فیصلہ ہو۔
اگر میرے اعتراضات درست ہیں تو قانون ان کی تائید کرے؛ اور اگر کسی نکتے پر میرا مؤقف درست نہیں تو اس کی وضاحت بھی قانون اور ریکارڈ کی بنیاد پر سامنے آئے۔
**کیونکہ مجھے کسی کی شکست نہیں چاہیے، مجھے اپنے حق کا منصفانہ فیصلہ چاہیے۔**
مجھے کسی منصب کی توہین نہیں کرنی؛ مجھے اس منصب سے وابستہ ذمہ داری یاد دلانی ہے۔
مجھے بازارِ انصاف میں کسی انسان کی قیمت نہیں لگوانی؛ مجھے یہ یقین چاہیے کہ یہاں ضمیر نہیں، قانون بولتا ہے؛ تعلقات نہیں، ثبوت بولتے ہیں؛ اور طاقت نہیں، انصاف فیصلہ کرتا ہے۔
**بازارِ حسن سے بازارِ انصاف تک کا سفر اسی دن مکمل ہوگا، جب سائل کو اپنی فریاد کے لیے طاقت نہیں، صرف سچ اور قانون کافی ہوں گے۔**
*میری آواز ایک مقدمے کی آواز ضرور ہے، مگر میرا مطالبہ ایک اصول کا ہے: انصاف سب کے لیے، قانون کے مطابق اور بلاامتیاز۔