23/02/2024
کیا آپ نے کبھی صلوٰۃ الحاجت کو آزمایا ہے؟
جب بے بسی ہو، جب کوئی راہ نہ دکھے، جب کوئی حل نہ سوجھے! پھر کیا کرتے ہیں ؟
اپنا غم کس سے بانٹتے ہیں؟ کسے رازدار کرتے ہیں؟ کیا آپ بھی دکھ اور ڈیپریشن میں تنہائی سے گزرتے ہیں؟
اگر ایسا ہی ہے تو میرا راز سُنیے
میرا طریقہ ہے صلاۃ حاجت
ایک حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص وضو کرے، دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے بعد دعا مانگے تو الله سبحانہ وتعالیٰ جلد یا بدیر اسکی وہ حاجت ضرور پوری کرتے ہیں۔
آپ صلوٰۃ الحاجت کو پڑھ کے دیکھیے!
آپ یقیناً پڑھتے ہوں گے! مگر آپ اسے اپنا معمول بنا لیجیے! جب بھی زندگی میں ذرا سا اتار چڑھاؤ آئے، فوراً وضو کیجیے! دو رکعت ادا کیجیے! اللہ کے پیارے ناموں سے اُسے پکاریں، اُس کی تعریف کریں، اُس کے محبوب پر درود وسلام بھیجیں ،استغفار کریں، گڑگڑا کر دعا مانگیۓ ۔ بس آپ کا کام اللہ کے سپرد ہو گیا ہے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے فوری طور پر مسئلہ حل ہو جاۓ گا ؟ ممکن ہے کہ ایسا ہو ۔لیکن جو میرے ساتھ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ پریشانی اور گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اعتماد ہو جاتا ہے کہ اب تو مسئلہ اللہ کے آگے رکھ دیا، حل نکل ہی آۓ گا۔دل و دماغ پرسکون ہو جاتا ہے۔ انسان ٹھنڈے دماغ سے سوچتا ہے تو کوئی راہ نظر آہی جاتی ہے۔ وہی راہ جس کے لیے کہا تھا
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ
ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے۔
یہ نماز کس لیے پڑھ سکتے ہیں۔
سنن ترمذی سے روایت ہے
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اپنی ساری حاجتیں اور ضرورتیں اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ اگر ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ ہی سے مانگے“۔
مانگیے نصف شب میں جھولی پھیلائیں، اُس مالکَ کل کائنات کی حمد کریں، اُٹھتے بیٹھتے استغفار کریں ۔ شکر کریں، خوب شکر کریں، اللہ آپ کی تمام جائز حاجتیں پوری کرے۔
آمین