حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم

  • Home
  • Pakistan
  • Lahore
  • حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم

حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری باتیں

12/04/2026
05/03/2026

القرآن - سورۃ نمبر 26 الشعراء
آیت نمبر 83

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبِّ هَبۡ لِىۡ حُكۡمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:
میرے پروردگار ! مجھے حکمت عطا فرما، اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمالے۔

19/02/2026

یہ تین دعائیں اپنی ڈیلی روٹین میں ضرور شامل کریں

_اللّٰهُمَّ إنِّي أَسأَلُكَ حُسْنٌ الخَاتمه۔۔۔
_اے اللّٰــــــہ میرا انجام اچھا کرنا۔۔۔۔

_اَللَّھُمّ اِنّی أسئلُکَ توبَةً نَّصُوْحَا قَبْلَ الْمَوت۔۔۔۔
_اے اللّٰــــــہ موت سے پہلے پہلے مجھے سچی توبہ نصیب فرما۔۔۔۔

_اللّٰهُم يا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلبِي عَلٰى دِينِك۔۔۔۔۔
اے اللّٰه اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو دین پہ ثابت قدم رکھ۔۔۔۔

آمــــین ثمہ آمیـــــــــــــن یا رب العالمین

02/09/2025

ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ!
ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ 10 ﺻﻔﺎﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ وه بزرگی تک پہنچ جاتا ہے۔

1. ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻌﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺑﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

2. ﮐﺘﺎ ﺍﮐﺜﺮ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

3. ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺘﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻏﺎﻟﺐ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺭﺍﺿﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

4. ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺑﮭﯽ6 ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﮧ ﺻﺎﺩﻗﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

5. ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﯿﻨﺘﺎ، ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

6. ﺟﺐ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺭ ﺟﻮﺗﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺩﻧﯽٰ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﻓﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

7. ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﭘﮭﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭨﮑﮍﺍ ﮈﺍﻝ ﺩﮮ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺁ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﺧﺎﺷﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔

8. ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﮐﻠﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

9. ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺤﺒﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

10. ﺟﺐ ﻣﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﯾﮧ ﺯﺍﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ ...

31/08/2025

*(درس قرآن سورة البقرة آیت نمبر 220)*
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم.
*فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰىؕ-قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌؕ-وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(220)*

ترجمۂ کنز الایمان

دنیاو آخرت کے کام سوچ کر کرو اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

تفسیر صراط الجنان

{فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ: دنیا و آخرت کے کاموں میں۔} اس حصے کا تعلق پچھلی آیت کے آخری جملے سے ہے اور اس کا معنٰی یہ بنے گا ’’ تا کہ تم دنیا و آخرت کے معاملے میں غور و فکر کرو۔ یعنی جتنا تمہاری دنیوی ضرورت کے لیے کافی ہو وہ لے کر باقی سب مال اپنی آخرت کے نفع کے لیے خیرات کردو ۔ اس سے جداگانہ بھی دنیا و آخرت کے کام سوچ سمجھ کر ہی کرنے چاہئیں۔

{ وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى: اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں۔}

جب یہ آیت: اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا (النساء: ۱۰) نازل ہوئی کہ یتیموں کا مال کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرنے والا ہے تو لوگوں نے یتیموں کے مال جدا کر دیئے اور ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا اس میں یہ صورتیں بھی پیش آئیں کہ جو کھانا یتیم کے لیے پکایاجاتا اس میں سے کچھ بچ جاتا اور خراب ہوجاتا اور کسی کے کام نہ آتا، اس میں یتیموں کا نقصان ہونے لگا۔ یہ صورتیں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کی کہ اگر یتیم کے مال کی حفاظت کی نیت سے اس کا کھانا اس کے سرپرست اپنے کھانے کے ساتھ ملالیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یتیموں کے فائدے کے لیے ملانے کی اجازت دی گئی۔
(ابو داود، کتاب الوصایا، باب مخالطۃ الیتیم فی الطعام، ۳ / ۱۵۷، الحدیث: ۲۸۷۱، تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۰، ۲ / ۴۰۴)

لیکن ساتھ ہی تنبیہ فرمادی کہ تمہیں یتیموں کے فائدے کیلئے مال ملانے کی اجازت تو دیدی گئی ہے لیکن کون اچھی نیت سے یتیموں کا مال ملاتا ہے اور کس کی نیت میں فساد ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ظاہراً تو یتیموں کا فائدہ کررہے ہو اور حقیقت میں ان کا مال ہڑپ کرنے کا ارادہ ہو۔آیت مبارکہ کا یہ حصہ’’وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ‘‘ کہ اللہ تعالیٰ اصلاح کی نیت والے اور فساد کی نیت والے دونوں کو جانتا ہے،یہ فرمان نہایت جامع ہے اور زندگی کے ہزاروں شعبوں کے لاکھوں معاملات میں رہنمائی کیلئے کافی ہے جہاں ایک ہی چیز میں اچھی اور بری دونوں نیتیں ہوسکتی ہیں وہاں دوسرے لوگ اگرچہ بری نیت کو نہ جانتے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے۔

یتیموں سے متعلق 2 احکام:
(1)…یتیم وہ نابالغ بچہ یا بچی ہے جس کا باپ فوت ہو گیا ہو، اگر اس کے پاس مال ہو اور اپنے کسی ولی کی پرورش میں ہو اس کے احکام اس آیت میں مذکور ہیں کہ ولی خواہ اس یتیم کا مال اپنے مال سے ملا کر اس پر خرچ کرے یا علیحدہ رکھ کر جس میں یتیم کی بہتری ہو وہ کرسکتا ہے لیکن ملانا خراب نیت سے نہیں ہونا چاہیے۔

(2)…اگرچہ اس آیت کا نزول یتیموں کی مالی اصلاح کے بارے میں ہوا مگر اصلاح کے لفظ میں ساری مصلحتیں داخل ہیں۔ یتیموں کے اخلاق، اعمال ،تربیت، تعلیم سب کی اصلاح کرنی چاہیے ۔ یوں سمجھیں کہ یتیم ساری مسلم قوم کیلئے اولاد کی طرح ہیں۔

17/08/2025

حضرت ابراہیمؑ اور چار پرندے

ایک دن حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے کہا:
"یا اللہ! مجھے یقین ہے کہ آپ مردوں کو زندہ کرتے ہیں، مگر میرا دل بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تسلی چاہتا ہے۔"

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اچھا ابراہیم! چار پرندے پکڑو اور انہیں اپنے پاس رکھو تاکہ وہ تمہیں پہچان لیں۔ پھر ان پرندوں کو ذبح کر کے ان کے گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا دو اور ان کے ٹکڑے الگ الگ پہاڑوں پر رکھ دو۔"

حضرت ابراہیمؑ نے ایسا ہی کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اب انہیں اپنے پاس بلاؤ!"

جیسے ہی حضرت ابراہیمؑ نے پرندوں کو آواز دی، تو پرندے زندہ ہو گئے، ان کے پر بن گئے، ان کی چونچ اور پَر جُڑ گئے، اور وہ اڑتے ہوئے خوشی سے حضرت ابراہیمؑ کے پاس آ گئے۔

یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیمؑ کا دل خوشی اور اطمینان سے بھر گیا کہ واقعی اللہ تعالیٰ ہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔

05/07/2025

یوم عاشورہ کے روزے کی فضیلت

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

نبی ﷺ سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

> "عاشورہ کے دن کا روزہ، گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔"
📚 (صحیح مسلم: 1162)

عاشورہ یعنی 10 محرم کا روزہ رکھنا سنت ہے۔

یہ پچھلے ایک سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

اگر ممکن ہو تو 9 اور 10 یا 10 اور 11 محرم دونوں دن روزہ رکھنا بہتر ہے تاکہ یہود سے مشابہت نہ ہو۔
شئیر کی درخواست ہے اور دعاؤں میں یاد رکھیں گا 🤲🏻
میرا مقصد : اصلاح کی کوشش کرنا

27/06/2025

ذکر الہٰی کی فضیلت۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ جو شخص اللہ کا ذکر کرے اور جو ذکر نہ کرے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (یعنی ذکر کرنے والا زندہ اور ذکر نہ کرنے والا مردوں کی طرح ہے)

صحیح بخاری

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share