Javed Jeweller rwp PK

Call Directions Contact the business

Javed Jeweller rwp PK Welcome to JAVED Jewellers, a trusted name for Gold , White Gold & Silver Jewellery and gemstones

Welcome to JAVED Jewellers, a trusted name for Gold , White Gold & Silver Jewellery and gemstones. We offer all Jewellery with the finest designs and high quality of gold. We have a wide range of Jewellery collection including necklaces, pendants, bangles, chains, ear studs, bracelets, rings etc. Our collection includes both traditional gold Jewellery and the latest fashion design Jewellery. We also have real gemstones or precious stones like ruby, emerald, diamond, sapphire, pearl, opal and more.

سونے و چاندی کے اعلی کوالٹی کے زیورات پنوانے کے لئے رابطہ کیجيۓ ۔
دس تولے سونے کے زیورات کی تیاری پر سونے کی ایک عدد انگوٹھی بالکل مفت حاصل کریں ، پانچ تولے سونے کے زیورات بنوانے پر اجرت پر 75 ٪ رعائیت حاصل کریں ۔
سونے کی کوالٹی کی گارنٹی تا قیامت ۔

عثمان غنی
+92 334 5130526

12/09/2026

12/09/2026


12/08/2026
12/08/2026
عالمی مالیاتی منڈیوں میں صدی کا سب سے بڑا فراڈ: جے پی مارگن نے سال 2026 میں چاندی کی قیمتوں کو کیسے گرایا؟ عالمی مالیاتی...
03/06/2026

عالمی مالیاتی منڈیوں میں صدی کا سب سے بڑا فراڈ: جے پی مارگن نے سال 2026 میں چاندی کی قیمتوں کو کیسے گرایا؟

عالمی مالیاتی منڈیوں اور کموڈٹی مارکیٹ سے اس وقت ایک ایسی سنسنی خیز اور ہوش ربا خبر سامنے آئی ہے جس نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، معاشی ماہرین اور عام عوام کو شدید جھٹکا دیا ہے۔ دنیا کے امیر ترین اور بااثر ترین سمجھے جانے والے امریکی بینک "جے پی مارگن چیس" (JPMorgan Chase) پر سال 2026 میں چاندی (Silver) کی قیمتوں میں تاریخی اور مصنوعی ہیر پھیر (Manipulation) کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جے پی مارگن نے ایک منظم سازش اور حکمتِ عملی کے تحت چاندی کی قیمتوں کو اس حد تک گرایا کہ مارکیٹ سے دیکھتے ہی دیکھتے 2.5 ٹریلین (25 سو ارب) ڈالرز کا سرمایہ پاش پاش ہو گیا اور لاکھوں چھوٹے سرمایہ کار راتوں رات سڑک پر آ گئے۔ یہ چاندی کی تاریخ کا سال 1980 کے بعد کا سب سے بڑا اور بدترین کریش قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس تاریخی گراوٹ نے پوری دنیا کے سرمایہ کاروں کو برباد کیا، اسی گراوٹ سے جے پی مارگن بینک نے اربوں ڈالرز کا ریکارڈ منافع کمایا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا اور نہ ہی یہ کوئی محض فرضی کہانی یا سازشی نظریہ ہے، بلکہ یہ جے پی مارگن کی پرانی تاریخ کا ایک ہولناک اعادہ ہے۔ اس سے قبل 29 ستمبر 2020 کو بھی امریکی ریگولیٹرز نے اسی بینک پر سال 2008 سے 2016 کے درمیان سونا اور چاندی کی منڈیوں میں غیر قانونی مداخلت اور قیمتوں کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے کا جرم ثابت ہونے پر 920 ملین (92 کروڑ) ڈالرز کا بھاری جرمانہ عائد کیا تھا۔ اب سال 2026 میں اسی بینک نے، اسی پرانی حکمتِ عملی کو دہراتے ہوئے، دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایک بار پھر چاندی کا سب سے بڑا اسکینڈل برپا کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا منظم مالیاتی فراڈ ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پورا عالمی مالیاتی نظام چند طاقتور اداروں کے ہاتھوں میں یرغمال بنا ہوا ہے۔

اس پورے فراڈ اور کھیل کو سمجھنے کے لیے "پیپر مارکیٹ" (Paper Market) اور "فزیکل مارکیٹ" (Physical Market) کے فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ عام انسان یہ سمجھتا ہے کہ جب چاندی کی خرید و فروخت ہوتی ہے تو بازار میں اصلی اور مادی چاندی کا تبادلہ ہوتا ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آج کے جدید دور میں چاندی کی زیادہ تر تجارت کا اصل چاندی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سارا کھیل فیوچرز کانٹریکٹس (Futures Contracts) یعنی کاغذ پر لکھے گئے معاہدوں کے ذریعے کھیلا جاتا ہے۔ مارکیٹ کا یہ تلخ سچ ہے کہ زمین سے نکلنے والی حقیقی چاندی کے ہر ایک اونس (Ounce) کے پیچھے کاغذ کے سینکڑوں اور ہزاروں فرضی معاہدے موجود ہوتے ہیں۔ جے پی مارگن چیس کو اس مارکیٹ میں یہ سب سے بڑا فائدہ حاصل ہے کہ وہ امریکہ کے سب سے بڑے فیوچرز ایکسچینج "کومیکس" (COMEX) کا سب سے بڑا اور طاقتور ترین کھلاڑی ہے۔ وہ مارکیٹ میں اس قدر اثر و رسوخ رکھتا ہے کہ وہ جب چاہے کاغذ کے ان فرضی معاہدوں کی بھرمار کر کے قیمتوں کا رخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔

سال 2026 کے اس اسکینڈل میں جے پی مارگن نے "شارٹ سیلنگ" (Short Selling) کی تکنیک کا بے رحمانہ استعمال کیا۔ جب چاندی کی قیمتیں اپنے عروج (High Levels) پر تھیں، تو بینک نے کومیکس مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر چاندی کے کاغذ کے فرضی کانٹریکٹس کو بیچنا شروع کر دیا، یعنی یہ شرط لگائی کہ قیمتیں نیچے آئیں گی۔ جب اتنے بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں سپلائی دکھائی گئی، تو قیمتیں تیزی سے گرنا شروع ہو گئیں۔ قیمتوں کے گرتے ہی ان چھوٹے سرمایہ کاروں کے پاؤں اکھڑ گئے جنہوں نے چاندی کی قیمتیں اوپر جانے کی امید پر سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ جے پی مارگن نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "فورسڈ لیکویڈیشن" (جب سرمایہ کاروں کو نقصان کے باعث اپنے اثاثے مجبورا بہت کم قیمت پر بیچنے پڑتے ہیں) کا عمل شروع کروایا۔ جیسے ہی مارکیٹ میں گھبراہٹ (Panic) پھیلی، ہر کوئی اپنی چاندی بیچنے کے لیے بھاگا، جس سے قیمتیں مٹی کے مول آ گئیں اور جے پی مارگن نے نچلی سطح پر وہی کانٹریکٹس دوبارہ سستے داموں خرید کر اربوں ڈالر کا خالص منافع اپنی جیب میں ڈال لیا۔

اس اسکینڈل نے عالمی مالیاتی نظام کی شفافیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دنیا بھر کے معاشی تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر 2020 میں اتنے بڑے جرمانے کے بعد بھی ایک بینک کو دوبارہ اسی نوعیت کا فراڈ کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے، تو چھوٹے سرمایہ کاروں کے سرمائے کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟ جے پی مارگن کا یہ چاندی اسکینڈل یہ واضح کرتا ہے کہ عالمی منڈیوں میں قیمتیں طلب اور رسد کے قدرتی اصولوں کے تحت نہیں، بلکہ وال اسٹریٹ کے بند کمروں میں بیٹھنے والے چند مقتدر بینکرز کے اشاروں پر طے ہوتی ہیں۔ جب تک اس پیپر مارکیٹ کے فرضی نظام کو لگام نہیں دی جائے گی اور حقیقی کماڈٹی کے مطابق تجارت کو لازمی نہیں کیا جائے گا، تب تک ایسے عالمی مالیاتی فراڈ دنیا کی معیشت کو اسی طرح کھوکھلا کرتے رہیں گے اور جے پی مارگن جیسے بڑے مگرمچھ غریبوں کی کمائی پر پلتے رہیں گے۔

   #سونادنیا میں کسی بھی چیز کی قیمت کا ایک اصول ہیے۔۔اور وہ ہیے اس چیز کی پیداوار و کھپت  یعنی production & demand... س...
02/03/2026

#سونا
دنیا میں کسی بھی چیز کی قیمت کا ایک اصول ہیے۔۔اور وہ ہیے اس چیز کی پیداوار و کھپت یعنی production & demand... سونے کے متعلق چند غلط فہمیاں ہیں جن کو یہاں دور کرنا چاہوں گا
1) جس طرح فلموں اور تصویروں میں سونے کے پہاڑ اور بڑے بڑے ڈلے دکھائے جاتے ہیں حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔۔ سونا زیر زمین مٹی و ریت یا چٹان میں مکس حالت میں ملتا ہیے
2)کسی بھی سونے کی کان سے سونا نکالنے پر جو لاگت آتی ہیے وہ اس بات پر منحصر ہیے کہ وہ سونا ملی مٹی یا چٹان زمین میں کتنی گہرائی پر ہیے اور اس میں فی ٹن کتنے گرام سونا ہیے ۔۔ اور کیا اس تک رسائی آسان کیے یا نہیں
3) دنیا میں جس کام کی چٹان میں فی ٹن سب سے زیادہ سونا پایا جاتا ہیے وہ کینیڈا میں واقع Macassar gold mine ہیے جس میں ایوریج 9 گرام سے 13 گرام فی ٹن سونا پایا جاتا ہیے۔۔اس سونےکی کل مقدار ایک اندازے کے مطابق 2.2 میلین اونس ہیے ۔ لیکن سونے کی یہ کان 1000 میٹر گہرائی پر ہیے ۔۔۔اور سالانہ پروڈکشن 280,000 اونس کے قریب ہیے
4) دوسرے نمبر پر Fosterville mine آسٹریلیا میں ہیے جس میں 1.6 میلین آونس سونا ہیے اور اور یہ بھی 800 میٹر گہرائی میں ہیے۔۔ اس میں بعض جگہ 20 گرام فی ٹن کی چٹانیں بھی ہیں ۔اس کی سالانہ پروڈکشن 160,000 اونس ہیے
5) دنیا کی وہ کان جس میں سب سے زیادہ سونا نکالا جاتا ہے سالانہ وہ ازبکستان کی Muruntau mine ہیے جہاں سے سالانہ 2.5 میلین اونس سونا نکالا جاتا ہیے ۔۔دوسرے نمبر پر Naveda گولڈ مائین امریکہ ہیے جہاں سے 2.2 میمن اونس سونا سالانہ نکالا جاتا ہیے ۔تیسرے نمبر پر Grasberg mine انڈونیشیا ہیے جہاں سے 2 میلین اونس سالانہ سونا حاصل ہونا ہیے
6) اب آتے ہیں بلوچستان میں واقع Reko Seq کی طرف۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ Reko Deq دنیا کے پانچویں بڑے گولڈ کے ذخائر ہیں ۔۔لیکن یہ سونا مٹی اور ریت میں کیے جس کے لیے open pit mining کی جاتی ہیے۔۔دوسری طرف فی ٹن سونے کی مقدار انتہائی کم کیے اور یہ صرف 0.22 گرام فی ٹن سے 0.4 گرام فی ٹن ہیے۔۔ دوسرے لفظوں میں اتنے بڑے ذخائر ہوتے ہوئے بھی سالانہ سونے کا حصول 300,000 اونس ہی ہو گا اور اس کو نکالنے پر خرچ بھی بہت زیادہ آئے گا۔۔اج سونے کی قیمت 4500 ڈالر فی اونس تک ہیے تو بھی سالانہ پروڈکشن 1.2 ارب ڈالر ہی ہو گی .. لیکن چونکہ Reko deq کی مٹی میں تانبہ بھی شامل جس کی سالانہ پروڈکشن 240,000 ٹن ہو گی اس طرح اس کی کل پیداواری صلاحیت 3.6 سے 4 ارب ڈالر سالانہ ہو گی ۔۔. لیکن اس کی 35 فیصد رقم اس سونے اور تانبہ کو نکالنے پر خرچ ہو گی ۔۔اس جا مطلب ہیے کہ اندازاً 2 ارب ڈالر کی سالانہ بچت ہو گی جس میں سے پاکستان کا حصہ 50 فیصد ہو گا۔ یعنی سالانہ ایک ارب ڈالر کے قریب ۔۔
یہ کان 2028 میں سونے اور تانبے کی پروڈکشن شروع کر دے گی

28/02/2026

1 کے ساتھ 60  مفتبچت آفر شروع ہونے کو ہےBuy 1Get 60 FreeGrand Sale about to start
18/02/2026

1 کے ساتھ 60 مفت
بچت آفر شروع ہونے کو ہے

Buy 1
Get 60 Free
Grand Sale about to start

02/02/2026


چاندی آہستہ آہستہ آنے والے وقت کا سونا ثابت ہونے لگی ہے۔میں مہنگائی اور سرمایہ کاری کے موضوع پر گاہے گاہے لکھتا آ رہا ہو...
27/01/2026

چاندی آہستہ آہستہ آنے والے وقت کا سونا ثابت ہونے لگی ہے۔
میں مہنگائی اور سرمایہ کاری کے موضوع پر گاہے گاہے لکھتا آ رہا ہوں کہ اگر آپ کے پاس بہت زیادہ سرمایہ نہیں ہے تو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تھوڑی تھوڑی چاندی لیتے جائیں، جمع کرتے جائیں۔ روزانہ کے اتار چڑھاؤ پر نظریں گاڑ کر بیٹھنے کے بجائے اگر آپ کچھ پیسہ ہولڈ کر سکتے ہیں تو بسکٹ کی صورت میں چاندی لے کر رکھ لیں۔ میری پچھلی دو پوسٹس اسی موضوع پر تھیں۔ پچھلے سال سال بھی چاندی جنوری سے اوپر جانا شروع ہوئی اور آج ریکارڈ سطح پر آ گئی ہے اور مزید اوپر کی طرف ہی سفر جاری ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں چاندی 100 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو چکی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ دنیا کے حالات، بدلتی ہوئی سیاست اور طاقتور ملکوں کی پالیسیاں ہمیشہ کموڈیٹی مارکیٹ پر اثر ڈالتی ہیں۔ خاص طور پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں، ٹیرف وار، اور گرین لینڈ جیسے حساس خطوں پر عالمی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محفوظ اثاثوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جب غیر یقینی بڑھتی ہے تو سونا اور چاندی ہی اصل پناہ گاہ بنتے ہیں۔
اگر ہم اپنے مقامی اعداد و شمار دیکھیں تو حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ پچھلے سال جنوری میں چاندی تقریباً 3 ہزار روپے فی تولہ تھی، اور آج اسی تاریخ کے آس پاس یہ 16 ہزار روپے فی تولہ تک پہنچ چکی ہے۔
میری رائے ہمیشہ یہی رہی ہے کہ مارکیٹ پر نظر رکھیں۔ جہاں ریٹ نیچے آئے، وہاں خریداری کریں، اور جہاں غیر معمولی تیزی ہو، وہاں کچھ منافع نکال لیں۔ اگر آپ لانگ ٹرم سرمایہ کاری کر سکتے ہیں تو 30 یا 40 تولے چاندی لے کر کچھ عرصے کے لیے بھول جائیں۔ یہ پڑی پڑی بھی آپ کو منافع دیتی رہے گی، کیونکہ مہنگائی خاموشی سے اس کی قیمت بڑھاتی رہتی ہے۔
کب خریدنی ہے، کہاں سے خریدنی ہے، یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے۔ مارکیٹ کو سمجھیں، تحقیق کریں۔ لیکن بینک میں پڑا پیسہ وقت کے ساتھ اپنی قدر کھوتا ہے، جبکہ سونا اور چاندی وقت کے ساتھ اپنی قیمت منواتے ہیں۔ آج سونا پانچ لاکھ دس ہزار روپے فی تولہ تک پہنچ چکا ہے۔ معمولی کریکشن یا ڈِپ آ سکتا ہے، مگر مجموعی سمت اوپر ہی ہے۔
فیصلہ آپ کا ہے، مگر پیسے کو سینت سینت کر رکھنے کی بجائے اگر سونے اور چاندی کی ہی تھوڑی تھوڑی مقدار میں انویسٹ کریں تو ہزاروں سے لاکھوں سے کروڑوں بن سکتے ہیں ۔

Address

Shop # M-1832 Street #12 Murree Road
Rawalpindi
46000

Opening Hours

Monday 11:00 - 20:30
Tuesday 11:00 - 20:30
Wednesday 11:00 - 20:30
Thursday 11:00 - 20:30
Saturday 11:00 - 20:30
Sunday 11:00 - 20:30

Telephone

+923345130526

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Javed Jeweller rwp PK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Javed Jeweller rwp PK:

Shortcuts

Share