02/03/2026
#سونا
دنیا میں کسی بھی چیز کی قیمت کا ایک اصول ہیے۔۔اور وہ ہیے اس چیز کی پیداوار و کھپت یعنی production & demand... سونے کے متعلق چند غلط فہمیاں ہیں جن کو یہاں دور کرنا چاہوں گا
1) جس طرح فلموں اور تصویروں میں سونے کے پہاڑ اور بڑے بڑے ڈلے دکھائے جاتے ہیں حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔۔ سونا زیر زمین مٹی و ریت یا چٹان میں مکس حالت میں ملتا ہیے
2)کسی بھی سونے کی کان سے سونا نکالنے پر جو لاگت آتی ہیے وہ اس بات پر منحصر ہیے کہ وہ سونا ملی مٹی یا چٹان زمین میں کتنی گہرائی پر ہیے اور اس میں فی ٹن کتنے گرام سونا ہیے ۔۔ اور کیا اس تک رسائی آسان کیے یا نہیں
3) دنیا میں جس کام کی چٹان میں فی ٹن سب سے زیادہ سونا پایا جاتا ہیے وہ کینیڈا میں واقع Macassar gold mine ہیے جس میں ایوریج 9 گرام سے 13 گرام فی ٹن سونا پایا جاتا ہیے۔۔اس سونےکی کل مقدار ایک اندازے کے مطابق 2.2 میلین اونس ہیے ۔ لیکن سونے کی یہ کان 1000 میٹر گہرائی پر ہیے ۔۔۔اور سالانہ پروڈکشن 280,000 اونس کے قریب ہیے
4) دوسرے نمبر پر Fosterville mine آسٹریلیا میں ہیے جس میں 1.6 میلین آونس سونا ہیے اور اور یہ بھی 800 میٹر گہرائی میں ہیے۔۔ اس میں بعض جگہ 20 گرام فی ٹن کی چٹانیں بھی ہیں ۔اس کی سالانہ پروڈکشن 160,000 اونس ہیے
5) دنیا کی وہ کان جس میں سب سے زیادہ سونا نکالا جاتا ہے سالانہ وہ ازبکستان کی Muruntau mine ہیے جہاں سے سالانہ 2.5 میلین اونس سونا نکالا جاتا ہیے ۔۔دوسرے نمبر پر Naveda گولڈ مائین امریکہ ہیے جہاں سے 2.2 میمن اونس سونا سالانہ نکالا جاتا ہیے ۔تیسرے نمبر پر Grasberg mine انڈونیشیا ہیے جہاں سے 2 میلین اونس سالانہ سونا حاصل ہونا ہیے
6) اب آتے ہیں بلوچستان میں واقع Reko Seq کی طرف۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ Reko Deq دنیا کے پانچویں بڑے گولڈ کے ذخائر ہیں ۔۔لیکن یہ سونا مٹی اور ریت میں کیے جس کے لیے open pit mining کی جاتی ہیے۔۔دوسری طرف فی ٹن سونے کی مقدار انتہائی کم کیے اور یہ صرف 0.22 گرام فی ٹن سے 0.4 گرام فی ٹن ہیے۔۔ دوسرے لفظوں میں اتنے بڑے ذخائر ہوتے ہوئے بھی سالانہ سونے کا حصول 300,000 اونس ہی ہو گا اور اس کو نکالنے پر خرچ بھی بہت زیادہ آئے گا۔۔اج سونے کی قیمت 4500 ڈالر فی اونس تک ہیے تو بھی سالانہ پروڈکشن 1.2 ارب ڈالر ہی ہو گی .. لیکن چونکہ Reko deq کی مٹی میں تانبہ بھی شامل جس کی سالانہ پروڈکشن 240,000 ٹن ہو گی اس طرح اس کی کل پیداواری صلاحیت 3.6 سے 4 ارب ڈالر سالانہ ہو گی ۔۔. لیکن اس کی 35 فیصد رقم اس سونے اور تانبہ کو نکالنے پر خرچ ہو گی ۔۔اس جا مطلب ہیے کہ اندازاً 2 ارب ڈالر کی سالانہ بچت ہو گی جس میں سے پاکستان کا حصہ 50 فیصد ہو گا۔ یعنی سالانہ ایک ارب ڈالر کے قریب ۔۔
یہ کان 2028 میں سونے اور تانبے کی پروڈکشن شروع کر دے گی