Qs writes

Qs writes This page is about to HUMANITY

03/08/2017

ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کھانا کھا رہے تھے، آپ کا دل کسی میٹھی چیز کھانے کو چاہا، آپ نے اپنی زوجہ سے پوچھا کہ :
" کیا کوئی میٹھی چیز ہے ...؟ "

انہوں نے جواب دیا :
" بیت المال سے جو کچھ آتا ہے اس میں میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی ... "

چند دن بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ دسترخوان پر کھانے کے ساتھ حلوہ بھی موجود ہے، آپ نے اپنی زوجہ صاحبہ سے پوچھا :
" آج یہ حلوہ کیسے بن گیا ....؟ "

آپ کی زوجہ محترمہ نے فرمایا :
" میں نے محسوس کیا کہ آپ کو میٹھی چیز کی خواہش ہے تو میں نے یوں کیا کہ جتنا آٹا روزانہ آتا تھا اس میں سے مٹھی بھر آٹا الگ رکھتی تھی، آج اتنا آٹا جمع ہو گیا کہ اس کے بدلے میں نے بازار سے کجھور کا شیرہ منگوایا اور اس طرح یہ حلوہ تیار کیا ... "

آپ نے حلوہ تناول فرمایا اور کھانے کے بعد آپ سیدھے بیت المال کے مہتمم کے پاس پہنچے اور فرمایا :
" ہمارے ہاں راشن میں جس قدر آٹا جاتا ہے، آج سے اس میں سے ایک مٹھی کم کر دینا، کیونکہ ہفتہ بھر کے تجربے نے بتایا ہے کہ ہمارا گزارہ مٹھی بھر کم آٹے میں بھی ہو جاتا ہے ..."

اللہ اکبر .... !
میں اپنے صحابہ رسول اللہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے کن، کن اعمال کے صدقے جاؤں ...!

دستک ایک ایسا پیج جہاں پر اسلامی و تاریخی معاشرتی و سیاسی تحریریں اپلوڈ کی جاتی ہے ، فیس بک کی دنیا کا سب سے الگ اور منفرد پیج جن کا دعوٰی ہے کہ ہماری تحریریں مغل گارڈر کی طرح مضبوط اور چراٹ سیمٹ کی طرح پائیدار ہوتی ہیں

03/08/2017

میری بیٹی بڑی ہو گئی ۔۔
ایک روز اس نے بڑے پیار سے مجھ سے پوچھا ،
"پاپا، کیا میں نے آپ کو کبھی رلایا ؟؟"
میں نے کہا ،
"جی ہاں."
"کب؟" اس نے حیرت سے پوچھا .
میں نے بتایا ،
"اس وقت تم قریب ایک سال کی تھی . گھٹنوں پر سركتی تھی . میں نے تمہارے سامنے پیسے ، قلم اور کھلونا رکھ دیا، کیونکہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم تینوں میں سے کسے اٹھاتی ہو . تمہارا انتخاب مجھے بتاتا کہ بڑی ہوکر تم کسے زیادہ اہمیت دو گی .
جیسے پیسے مطلب جائیداد ، قلم مطلب عقل اور کھلونا مطلب لطف اندوز . میں نے یہ سب کچھ پیار سے کیا . مجھے تمہارا انتخاب دیکھنا تھا . تم ایک جگہ مستحکم بیٹھی ٹكر ٹكر ان تینوں اشیاء کو دیکھ رہی تھی . میں تمہارے سامنے ان اشیاء کی دوسری طرف خاموش بیٹھا تمہیں دیکھ رہا تھا . تم گھٹنوں اور ہاتھوں کے زور پر سركتی آگے بڑھی ، میں سانس روکے دیکھ رہا تھا اور لمحہ بھر میں ہی تم نے تینوں اشیاء کو بازو سے سرکا دیا اور ان کو پار کرتی ہوئی آکر میری گود میں بیٹھ گئی .
مجھے دھیان ہی نہیں رہا کہ ان تینوں اشیاء کے علاوہ تمہارا ایک انتخاب "میں" بھی تو ہو سکتا تھا . . .
وہ پہلی اور آخری بار تھا بیٹا جب تم نے مجھے رلایا تھا.."
#اعجاز...

آپ کے شیئر کرنے سے شاید کسی پرندے کی جان بچ جائے۔۔۔۔۔۔
01/08/2017

آپ کے شیئر کرنے سے شاید کسی پرندے کی جان بچ جائے۔۔۔۔۔۔

آپ کے پاس اپنے آپ کےلیے بیٹھے ہوتے ہیں مگر آپ موبائل میں لگے ہوتے ہیں آپ کو ان کی قدر ابھی نہیں ہے مگر ایک دن جب آپ اس م...
01/08/2017

آپ کے پاس اپنے آپ کےلیے بیٹھے ہوتے ہیں مگر آپ موبائل میں لگے ہوتے ہیں آپ کو ان کی قدر ابھی نہیں ہے مگر ایک دن جب آپ اس موبائل سے نکل کر اردگرد دیکھیں گے تو شاید وہاں کوئی نہ ہو اس لئے اپنی اور اپنوں کی قددر کیجیے۔۔۔

خدارا ایسے لوگوں سے ضرور خریدا کریں. یہ لوگ امیری کے لیے نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کے لیے کماتے ہیں. دوستوں اور عزیزوں کے...
01/08/2017

خدارا ایسے لوگوں سے ضرور خریدا کریں. یہ لوگ امیری کے لیے نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کے لیے کماتے ہیں.
دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر ضرور کریں شاید آپ کی وجہ سے کسی غریب کا چولہا جل جائے
Qswrites

کل شام مجھے میرے ایک دوست کے ساتھ Chenone Tower جانے کا اتفاق ہوا۔۔۔ ہم لوگوں نے وہاں سے شاپنگ کی لیکن ایک چیز میں نے ob...
01/08/2017

کل شام مجھے میرے ایک دوست کے ساتھ Chenone Tower جانے کا اتفاق ہوا۔۔۔ ہم لوگوں نے وہاں سے شاپنگ کی لیکن ایک چیز میں نے observe کی ہے وہ میں آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
ہم لوگ Outfitters اور Levis پہ جاتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں اور Cash Counter پہ جا کر بولتے ہیں
Excuse me how much we need to pay ??
اور cash counter پہ بیٹھا شخص چیزوں کو سکین کرتا ہے اور کہتا ہے 17000 only سر ۔۔۔ ہم لوگ کہتے ہیں Sure take it پھر ہم لوگ تھینکس بولتے ہیں اور وہاں سے باہر آ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
باہر کھڑے آٹو رکشا والے چچا سے پوچھتے ہیں Elive Garden phase 2 جانا ہے کتنے لو گے ۔۔۔۔ چچا 80 روپے دے دو صاحب چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔ اور ہم لوگ ۔۔ خدا کا نام لو بابا جی کیوں لوٹ رہے ہو سب کو۔۔۔۔۔ 50 دیں گے لے جانا ہے تو لے جاو۔۔۔
گویا ہم نے اپنی ضد سے ایک غریب انسان یا معمولی آٹو والے یا ٹھیلے والے کے بال بچوں کے پیٹ پر لات ماردی .

میرا سوال یہ ہے کہ کیا معاشرتی لحاظ سے ہمارا یہ طرز عمل درست ہے ؟؟ دیکھیں میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ Bargaining مت کریں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ ایک سوالیہ نشان ہم سب کے لیے ؟؟ :(
علی شیرازی ۔۔

01/08/2017

✔مجهے اس سے محبت نہیں تهی ،ہوتی بهی کیسے !
وہ عام سی شکل وصورت کی سانولی سی لڑکی تهی . تیل سے چپکے ہوئے بال اور اس پر تین گز لمبی چادر .
پڑهی لکهی ہونے کے باوجود شدید احساس کمتری کا شکار تهی . جبکہ میں اس کے مقابلے میں اچها خاصا سمارٹ تها .
وہ تو اماں کے مجبور کرنے پر میں نے اس سے شادی کر لی ،کہ بیوہ بہن کی بیٹی ہے ،کہاں غیروں میں کهجل خوار ہو گی ،لیکن محبت کبهی نہ کر سکا اس سے ،
سارا دن گهر کے کام کاج میں جتی رہتی ،اماں ابا کی جی جان سے خدمت کرتی
میری ہر ضرورت کا خیال رکهتی ،کوئی شکوہ نہ شکائت ،یوں جیسے پتهر کی مورت ہو .
میری بے رخی اس کے لئے یوں ہی برقرار رہی .بلکہ رفتہ رفتہ اس میں اضافہ ہوتارہا .ایسی گهٹن زدہ زندگی سے تنگ آگیا تها میں .
اماں کے مرنے کی دیر تهی کہ میں نے دوسری شادی کر لی ،اس نے کوئی احتجاج نہ کیا ،روئی نہ چلائی ،بس خاموشی سے سب کچهہ دیکهتی رہی .
دوسری بیوی کے آتے ہی میں اپنی دنیا میں مست ہو گیا ،
پارٹیاں ،ہنگامے ،سیروتفریح ،زندگ ایکدم بے حد خوبصورت لگنے لگی .اسے تو گویا میں بهلا بیٹها ،
ایکدن اس کے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے رکنا پڑا ، رو رو کر فون پر کہہ رہی تهی .
کیسی باتیں کرتی ہیں اماں آپ ! بهلا میں کیا حق رکهتی ہوں احتجاج کا ؟
جانتی ہوں ،زبردستی کے سودے ایسے ہی ہوتے ہیں ،
یہ کیا کم ہے کہ دوسری شادی کے بعد بهی انہوں نے مجهے اپنے ساتهہ رکها ہوا ہے ، اپنی ماں کو دیا وعدہ نبها رہے ہیں .
میرے شور شرابہ کرنے پر اگر انہوں نے مجهے چهوڑ دیا تو بتاو کیا کروں گی میں ؟ تم تو اپنی سانسیں گن رہی ہو ، مجهے کون سہارا دے گا ،
سر پر باپ ہے نہ بهائی ،جو میری حمائت میں بولے .
اور پهر مرد کی محبت کا کیا ہے ،یہ تو نفل نماز جیسی ہوتی ہے ،ہو گئی تو ہو گئی ،ورنہ کونسی فرض ہے کہ نہ ہونے سے گناہ ہو گا .
وہ اپنی ہچکیوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتی رہی ، میں گم سم کهڑا سب کچهہ سنتا رہا ،یقین نہیں آرہاتها کہ
بظاہر چٹان کی طرح مضبوط نظر آنے والی لڑکی ،اندر سے کس قدر ٹوٹ چکی تهی ،ریزہ ریزہ وجود کو سمیٹ کر کیسے اس نے خود کو سنبهال رکها تها .
صرف بد صورتی کے جرم میں وہ یہ سزا بهگت رہی تهی . میری عزت ،میرے گهر کی رکهوالی کرنے والی ،اپنے اندر کی گهٹن میں مر مر کر جی رہی تهی .
اللہ کے بعد جسے اس کا سب سے بڑا سہارا ہونا چاہئے تها ،وہی اسے ٹهکراتا اور دهتکارتا رہا ،
جس پر اسے مان تها ،اسی سے خوفزدہ تهی ،بےآسرا ہو جانے کے ڈر سے اپنے وجود کے خ*ل میں چهپی بیٹهی تهی .
بےاختیار میرے قدم اٹهے اور میں اس کے سامنے چلا گیا .
مجهے دیکهہ کر ٹهٹکی اور بوکهلا کر کهڑی ہو گئی .چہرہ خوف سے زرد پڑ گیا
میں نے اس کے دونوں ہاتهہ تهام لئے اور دکهہ سے بولا ،
جن پر مان ہوتا ہے ،ان کا بهرم رکهتے ہیں ،مجهے معاف کر دو .
حیرت اور بے یقینی سے اس نے میری طرف دیکها ، میں نے سر جهکا کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا . بے تحاشہ روتے ہوئے اس نے اپنا سر میرے شانے سے ٹکا دیا..!!
#انتخاب

ہوا یوں کہ گھر سے بھابی کا فون آیا کہ آج گڑیا کا دل چاہ رہا ہے چکن تکہ کھانے کا ۔ آج ہم نے کچھ نہیں پکایا ۔۔ آپ آفس سے آ...
30/07/2017

ہوا یوں کہ گھر سے بھابی کا فون آیا کہ آج گڑیا کا دل چاہ رہا ہے چکن تکہ کھانے کا ۔ آج ہم نے کچھ نہیں پکایا ۔۔ آپ آفس سے آتے ہوئے بوٹ بیسن سے ہمارے پسندیدہ ہوٹل سے گرین چکن تکّے لیتے آئیے گا ۔۔ ہم یہاں کے ہوٹل کے تکّے نہیں کھائیں گے ۔رضوان بھائی آفس سے نکلے تو موٹر سائیکل کا رخ بوٹ بیسن کی طرف تھا ۔ وہ اپنی بیٹی گڑیا کی کوئی فرمائش نہیں ٹالتے تھے ۔۔ چاہے مالی حالات جس قسم کے بھی ہوں ۔۔ تنخواہ بمشکل پوری ہورہی ہو ۔ آخری تاریخوں میں آفس سے ایڈوانس اٹھاکے گھر چلانا پڑتا ہو ۔۔ مگر گڑیا کا کہا نہ ٹالا جاتا چونکہ گڑیا اب دو مہینے کی مہمان تھی ۔ اس کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی تھی اور پھر وہ رضوان بھائی کی اکلوتی اولاد تھی ۔ ان کی جان تھی ۔۔ ان کا سب کچھ تھی ۔ وہ اپنا اور اپنی بیوی کا تو من مارسکتے تھے ۔ خواہشیں، دل کے ارمان دباسکتے تھے ۔ مگر گڑیا کی بات ٹالنا ناممکن تھا ۔ہوٹل پہنچ کر انہوں نے جیب سے وولٹ نکالا ۔۔ پیسے پر ایک نظر ڈالی ۔۔ سوچا تین تکّے اور تین چار پراٹھے تو آرام سے آجائیں گے ۔ پیمنٹ کرکے کھانا پیک کرایا اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کی کہ برابر میں کھڑے ایک موٹر سائیکل والے نے ان کے ٹائر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔” بھائی تمہارا ٹائر پنکچر ہے “رضوان بھائی کا رنگ اڑ گیا ۔ الٰہی خیر ! جیب میں تو اتنے پیسے بھی نہیں ۔ وہ موٹر سائیکل قریب ہی پٹرول پمپ تک چلا کے لے گئے ۔ پنکچر والے نے دیکھ کے کہا ۔۔ ہوا کم ہے ۔۔ ہوا بھر والو ۔۔ پنکچر نہیں ۔ رضوان بھائی نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا ۔ ٹائر میں ہوا بھر کے جب پٹرول پمپ سے نکلنے لگے تو اچانک فٹ پات پر بیٹھے ایک بوڑھے شخص پر نظر پڑی ۔ نظر ملتے ہی وہ بوڑھے نے سوال کیا ۔۔ ” بیٹا ! صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔ ایک روٹی اللہ کے نام “رضوان بھائی نے اسے “معاف کرو بابا ” کہا اور موٹر سائیکل آگے بڑھائی ۔۔ ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ کسی خیال کے ذہن میں آتے ہی انہوں نے بریک لگائی ۔ان کی نظروں کے آگے اس بوڑھے کا چہرہ گھومنے لگا ۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں ۔ ہونٹ پھٹے ہوئے ۔۔ بے ترتیب ڈارھی ۔۔ کپکپاتے ہاتھ ۔۔ میلے کچیلے کپڑے ۔۔ کہیں وہ واقعی صبح سے بھوکا نہ ہو ۔۔ ہوسکتا ہے وہ سچ بول رہا ہو ۔ اس خیال کے آتے ہی انہوں نے موٹر سائیکل کو واپس پٹرول پمپ کی طرف موڑا ۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنےہوٹل کے پیک کیے گئے تھیلے میں سے ایک تکّہ اور ایک پراٹھا بوڑھے کو نکال کے دیا ۔ بوڑھےکی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی اور وہ تکّے کی طرف لپکا اور پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکے دعائیں دینے لگا ۔ رضوان بھائی نے گھر کی راہ پکڑی ۔۔ راستے میں وہ سوچنے لگے کہ بیگم اور گڑیا دونوں یہ سوال ضرور کریں گی کہ تین افراد کے لیے دو تکّے کیوں ۔۔ کیا پیسے کم پڑ گئے تھے ۔ مجھے یقینا پہلے سے ہی کوئی بہانہ بنانا پڑے گا ورنہ وہ دونوں بھی نہیں کھائیں گی ۔ پھر کچھ سوچ کے انہوں نے اپنے آپ سے کہا ۔ ” ہاں یہ ٹھیک ہے۔ کہ میں جاتے ہی پیٹ پکڑ لوں گا کہ میرے پیٹ میں شدید درد ہے ۔ میں کچھ نہیں کھائوں گا ۔ میں نے آپ دونوں کے لیے ہی کھانا لیا ہے ۔ یہ ٹھیک رہے گا ۔ انہوں نے اپنے آپ سے کہا "

18/07/2017
اپنے ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور ............ happy rainy day
18/07/2017

اپنے ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور ............ happy rainy day

17/07/2017

حفاظت

آج بھی جب وہ اسکول کے گیٹ سے باہر نکلی تو وہ سامنے اس کو تنگ کرنے کے لیےوہ کھڑا تھا اس کی نظر جونہی اس بدمعاش پر پڑی غصہ سے سیخ پا ہوگئی،اس نے پکا ارادہ کیا آج وہ ضرور اپنے بھائی کو اس آوارہ کی شکایت لگائے گی۔

لبنیٰ نویں جماعت کی طالبہ تھی اس کے والدین ایکسیڈنٹ حادثے میں فوت ہوگئے تھے والدین کے فوت ہونے کے بعد گھر والے اس کے ساتھ بہت لاڈ اور پیار والا معاملہ کرتے تھے ،اس کی عادتیں کافی حد تک آزادانہ ہوچکی تھیں۔ گھر آکر اس نے رونا شروع کردیا، بھائی کے پوچھنے پر اس نے اپنی سہیلی کے بھائی کی شکایت کی جو اسے تنگ کرتا تھا، بھائی کے غصہ کا پارہ ہائی ہوگیا، اس نے کچھ دیر سوچنا شروع کیا۔

کل جب چھٹی کا وقت قریب آیا تو لبنیٰ کا بھائی سکول کے گیٹ کے پاس کھڑا ہوگیا، سب لڑکیاں باہر نکلنے لگیں، اس کی نظریں لبنیٰ کی سہیلی کو ڈھونڈنے لگی جس کا بھائی اس کی بہن کو تنگ کرتا تھا جونہی اس کی نظر لبنیٰ کے سہیلی پر پڑی تو حیران ہو کر کیا دیکھتا ہے کالے برقعے میں ملبوس دستانے اور جرابیں پہنی ہوئی اور آنکھیں نیچے جھکائے ہوئے وہ تو مجسم حیا اور سر تا پا باپردہ لڑکی تھی، جب اس کی نظر اپنی بہن پر پڑی جس کا دوپٹہ سر سے سرک کر اس کے گلے میں پڑا ہوا تھا۔ ایسی ہیئت تھی جو شخص نظر نہ بھی اٹھانا چاہے اسے بھی اپنی طرف متوجہ کریں یہ دیکھ کر اس نے فورا بازارکا رخ کیا۔

کل جب لبنیٰ اسکول جارہی تھی تو اس کا جسم پورے برقعے میں چھپا ہوا تھا ہاتھوں پر دستانے پاؤں میں جرابیں پہنے ہوئے تھی۔ آج جب وہ اسکول سے باہر نکل رہی تھی تو وہ آوارہ اسے تلاش کر رہا تھا لیکن اسے لبنیٰ نظر نہیں آرہی تھی کیونکہ اس نے اپنی حقیقت کو جان لیا تھا، کہ عورت کسے کہتے ہیں۔

17/07/2017

ایک لڑکا جب تیرہ سال کا ہوا تو اس کے باپ نے اسے بلایا اور ایک پتہ ہاتھ میں پکڑا کر بولا کہ جاؤ ادھر ایک بہت دانا آدمی رہتا ہے۔ اس کی حکمت دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کے پاس جا کر اس سے یہ سیکھو کہ خوشی کیا ہے اور کیسے اسے پایا جا سکتا ہے۔ وہ لڑکا پتے کو سمجھنا شروع ہوا۔ وہ کسی صحرا میں ایک محل کا پتہ تھا۔ لڑکا نکل کھڑا ہوا۔ وہ چالیس دن مسلسل صحرا میں سفر کرتا رہا۔آخر کار وہ اس پتے پر پہنچ گیا۔ اس نے دیکھا تو سامنے ایک بہت عالی شان، وسیع و عریض محل بنا ہوا تھا۔ وہ محل کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ہلکی سی موسیقی لگی ہوئی تھی اور ارد گرد جوق در جوق لوگ جمع تھے۔ اس نے بالکل بھی یہ سب تصور نہیں کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اندر مکمل سناٹا ہو گا اور کوئی بوڑھا سا دانا بابا بیٹھا ہو گا جو اسے حکمت کی دو چار باتیں بتا کر چلتا کرے گا۔ ادھر تو ماحول ہی الگ تھا۔ اتنے ڈھیر سارے لوگ اور میزوں پر تھال کے تھال بھرے پڑے تھے۔ اتنے لزیز اور طرح طرح کے کھانے سجے تھے۔ اتنے میں وہ دانا آدمی آیا اور اس کو مخاطب کیا کہ تم ادھر نئے آئے ہو، کیا چاہیے ہے؟ لڑکے نے ساری کہانی سنا دی کہ میرے باپ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں خوشی کا مفہوم سیکھ کر واپس جاؤں۔اس آدمی نے اسے بولا کہ دیکھ لو میرے کتنے مہمان آئے ہوئے ہیں، میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، تم ایک چمچہ ادھر سے اٹھاؤ اور اس میں دو قطرے زیتون کا تیل ڈالو۔ پھر وہ چمچہ اپنے سیدھے ہاتھ میں پکڑو۔ تم نے یہ تیل کسی صورت نیچے نہیں گرنے دینا۔ ساتھ میں میرا محل دیکھو۔ بہت خوبصورت بنایا ہے میں نے۔ شاباش۔۔ابھی جاؤ۔۔۔جب محل دیکھ لو گے تو پھر میرے پاس آجانا۔ پر یاد رہے کہ تیل کی ایک بوند بھی نیچے نہ گرے۔ لڑکا گیا، میز پر سے ایک چمچ اٹھایا اور اس میں ایک پیالے سے دو قطرے زیتون کا تیل بھر لیا۔ پھر وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا، اتنی سیڑھیاں تھیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں۔ ہر منزل پر ایک زبردست منظر بنا ہوا تھا۔ یہ ادھر ادھر پھرتا رہا اور پھر واپس آگیا۔ اس آدمی نے اسے دیکھا تو اپنے مہمانوں میں سے اٹھ آیا اور اسے بولا کہ ہاں بھئی اب ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے کیا کیا دیکھا؟لڑکا بولا کہ میں آپ سے جھوٹ نہیں بول سکتا مجھے سارا وقت ان تیل کے قطروں کی فکر لگی رہی تھی اور میں کچھ بھی نہیں دیکھ پایا۔ میں اوپر گیا، نیچے آیا، کسی ایک چیز کو بھی آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکا۔ اس آدمی نے مسکرا کر لڑکے کو بولا کہ جاؤ ایک دفعہ پھر سے جا کر سارے محل کا دورہ کرو۔ تمہیں پتہ ہے میں نے کتنے مہنگے مہنگے اور قیمتی فانوس بچھا رکھے ہیں۔ اور میں نے کتنے قیمتی فارسی قالینوں سے اپنا گھر سجایا ہوا ہے۔ میرا باغ جا کر دیکھو۔دس سال لگا کر سب سے ماہر باغبان نے اسے اتنا نکھارا اور سنوارا ہے۔ میری لائیبریری جا کر دیکھو کتنی عالی شان ہے ، ادھر جو کتابیں میں نے جمع کی ہیں وہ دیکھو کتنی قدیم اور قیمتی ہیں۔ جاؤ شاباش۔۔۔لڑکا ہاتھ میں چمچ پکڑ کر اس میں پھر سے دو قطرے تیل ڈال کر چلا گیا۔ اس بار اس نے پورا محل بغور دیکھا اور یہ حیران ہو گیا۔ جب واپس لوٹا تو اس دانا آدمی نے اس سے پوچھا کہ اب کی بار کیا دیکھ کر آئے ہو؟لڑکے نے جواب دیا کہ میں نے دیکھا کہ کتنی بھانت بھانت کے پھول آپ نے باغ میں اکٹھے کیے ہوئے تھے۔ اتنے خوبصورت قالین، اتنے پیارے فانوس۔ میری تو آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ آپ نے واقعی بہت زبر دست محل بنایا ہے۔ دانا آدمی نے پوچھا کہ چمچ کدھر ہے، اس لڑکے نے ہاتھ آگے کر کے دکھایا۔ دانا آدمی نے بولا ذرا دیکھو اس میں اب تیل ہے؟ لڑکے نے دیکھا تو چمچ خالی تھا۔وہ شرمندہ ہوا اور اس نے بولا کہ میں باقی سب کچھ دیکھ رہا تھا کیونکہ آپ نے بولا تھا کہ جا کر سب کچھ دیکھو۔ اس حکمت کے بادشاہ نے بولا کہ بیٹے اب میری بات کو غور سے سمجھو کہ خوشی کیا ہے؟ تم جواتنی دور سے میرے پاس یہ سبق سیکھنے آئے تھے کہ خوشی کا مفہوم کیا ہے۔۔۔ یہ ایک گہری بات ہے اور اسے سمجھانے کے لیے ہی میں نے تم سے یہ سب کچھ کروایا ہے۔خوشی یہ ہے کہ اس چمچ سے ایک قطرہ بھی نیچے نہیں گرنا چاہیے اور تم اس دوران جتنا کچھ دیکھ سکتے ہو اسے دیکھ بھی لو۔ تمہیں دونوں میں توازن برقرار رکھنا ہو گا۔ یہی زندگی کا مقصد ہے اور جب انسان اس مقصد کو کافی حد تک پا لیتا ہے تو وہ خوش اور مطمئن رہتا ہے۔ اس کہانی میں اصل سبق یہی تھا کہ چمچ میں دو قطرے تیل انسان کا ایمان ہے۔اس ایمان کو خدا نے ہر انسان میں پرویا ہے۔ انسان در اصل سانچے ہیں۔ ہر سانچے میں یہ دو قطرے ایمان کے پروئے گئے جب ساری روحوں کو تخلیق کیا گیا۔پھر رب نے سب کو اس دنیا کے امتحان میں ڈال دیا۔ اس دنیا کو خدا نے بہت حسین و جمیل بنایا تاکہ یہ ہماری آنکھیں خیرہ کر دے اور دل موہ لے۔ جب اس دنیا نے دل میں زیادہ گھر کر لیا تو ایمان کا بیڑہ غرق ہو جائے گا اور جب بھی ایمان نے دل میں زیادہ گھر کر لیا تو انسان اللہ کو مقرب ہو جائے گا۔ اللہ سے یہ مانگو کہ ایسی ہدایت دے کہ ت

Address

Sialkot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qs writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share